تفہیماتِ ربانیّہ — Page 475
نور کی طرح پھیلتا جاتا ہے۔اس سے تو ثابت ہوتا ہے کہ یہ امت نہایت ہی بدقسمت ہے اور خدا کا پختہ ارادہ ہے کہ اس کو ہلاک کر دے۔یہ کیسی مورد غضب الہی ہے کہ ایک تو دجال کے قبضہ میں دی گئی اور اب تک بچے مسیح اور مہدی کا نہ آسمان پر کچھ پتہ ملتا ہے نہ زمین پر۔ہزار چھینیں بھی مارو وہ دونوں گم شدہ جواب بھی نہیں دیتے کہ زندہ ہیں یا مُردہ اور کدھر ہیں اور کہاں ہیں۔نبیوں کے مقرر کردہ وقت بھی گزر گئے اور امت کو عیسائی مذہب نے کھالیا۔مگر نہ خدا کو رحم آیا اور نہ مہدی اور مسیح کے دل نرم ہوئے۔“ ( نزول اسیح صفحه ۳۳-۳۴) اے بھائیو! آسمان اور زمین کے تغیرات پر نگاہ کرو، اسلام کی حالت پر نظر کرو، اور پھر اکیلے ہو کر اور مل کر غور کرو کہ کیا یہ دجال کے آنے کا وقت تھا یا مسیح کے آنے کا ؟ تو آپ کا دل بے ساختہ پکار اٹھے گا کہ اگر کسی مسیح نے آنا ہے، کسی مہدی کا ظہور ضروری ہے تو اس کا یہی وقت ہے۔پس زمانہ شاہد ہے کہ حضرت مرزا صاحب جھوٹے نبیوں والی پیش گوئی کے مصداق نہیں۔خوب فرمایا وقت تھا وقت مسیحا نہ کسی اور کا وقت میں نہ آتا تو کوئی اور ہی آیا ہوتا (۱۲) قوله " انا جیل میں مسیح نے لکھا ہے کہ میرے بعد جھوٹے نبی اور جھوٹے مسیح آئیں گے۔(ملخصاً عشر صفحہ ۱۰۵) اقول اس کے کئی جواب ہیں۔اول - انجیل محرف مبدل ہے۔وہ ہم پر حجت نہیں ہوسکتی۔ہمارے حضرت مسیح موعود علیہ السلام تو اس کو اس کے ماننے والوں پر بطور حجت الزاما پیش فرمایا کرتے تھے۔(475)