تفہیماتِ ربانیّہ — Page 474
اور جب ان کو کہا جائے کہ عین ضرورت کے وقت میں، عین صدی کے سر پر، عین غلبۂ صلیب کے ایام میں، یہ مجدد آیا۔جس کا نام ان معنوں سے مسیح موعود ہے کہ جو اسی صلیبی فتنہ کے وقت میں ظاہر ہوا تو کہتے ہیں کہ حدیثوں میں ہے کہ اس اُمت میں تین س و جبال آدیں گے کہ تا اُمت کا اچھی طرح خاتمہ کر دیں۔کیا خوب عقیدہ ہے۔اے نادانو ! کیا اس اُمت کی ایسی ہی پھوٹی ہوئی قسمت ، اور ایسے ہی بد طالع ہیں کہ ان کے حصہ میں تیں دجال ہی رہ گئے۔دجال تو تین " مگر طوفانِ صلیب کے فرو کرنے کے لئے ایک بھی مجد دنہ آسکا۔زہے قسمت۔خدا نے پہلی امتوں کے لئے تو پے در پے نبی اور رسول بھیجے لیکن جب اس امت کی نوبت آئی تو اس کو تعین دجال کی خوشخبری سنائی گئی۔اور پھر یہ بھی ثابت شدہ پیشگوئی ہے کہ آخر کار اس اُمت کے علماء بھی یہودی بن جائیں گے۔اور یہ بھی ظاہر ہے کہ اب تک لاکھوں آدمی مرتد ہو چکے جنہوں نے دینِ اسلام کو ترک کر دیا۔پس کیا اس درجہ کی ضلالت تک ابھی خدا خوش نہ ہوا اور اس کے دل کو سیری نہ ہوئی جب تک اس نے خود اسی اُمت میں سے صدی کے سر پر ایک دجال بھیج نہ دیا۔خوب اُمتِ مرحومہ ہے جس کے حق میں یہ عنایات ہیں۔اور پھر یہ کہ باوجود یکہ اس دجال کے مارنے کے لئے مومنوں کے سجدات میں ناک گھس گئے۔لاکھوں دعا ئیں اور تدبیریں اس کی ہلاکت اور تباہی کے لئے کی گئیں مگر خدا نہیں سنتا ، منہ پھیر لیتا ہے۔بلکہ برعکس اس کے یہ دجال برابر تین برس سے ترقی کر رہا ہے اور دنیا میں آسمان کے (474)