تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 463 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 463

فَاحِبَّهُ فَيُحِبُّهُ جِبْرِيلُ فَيُنَادِى جِبْرِيلُ فِي أَهْلِ السَّمَاءِ اِنَّ اللهَ يُحِبُّ فَلَانًا فَاحِبُّوْهُ فَيُحِبُّهُ أَهْلُ السَّمَاءِ ثُمَّ يُوضَعُ لَهُ الْقُبُولُ فِي الْأَرْضِ “ ترجمہ۔جب اللہ تعالیٰ کسی بندہ سے محبت کرتا ہے تو وہ جبریل کو کہتا ہے کہ میں فلاں شخص سے محبت کرتا ہوں تو بھی اُس سے محبت کر۔وہ اس شخص سے محبت کرتا ہے۔پھر جبریل آسمان والوں میں منادی کرتا ہے کہ اللہ فلاں بندے سے محبت کرتا ہے تم بھی اس سے محبت کرو۔پس اہل السماء اس سے محبت کرتے ہیں۔پھر اس بندے کے لئے زمین میں قبولیت رکھی جاتی ہے۔( بخاری کتاب بدء الخلق جلد ۲ صفحہ ۱۵۲) اس حدیث سے ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے محبوب بندے کے لئے سب سے پہلے تحریک جبریل کو کرتا ہے۔پھر وہ دیگر ملائک اور نیک ارواح میں اس کی محبت کا اعلان کرتا ہے۔مقام حیرت ہے کہ اگر اسی مفہوم کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے رنگ میں ادا فرمایا تو اس پر یہ لوگ سیخ پا ہورہے ہیں۔در حقیقت ان کا بھی قصور نہیں کیونکہ علم روحانیت سے یہ لوگ خالی ہیں اسلئے ہر آسمانی صداقت پر محو حیرت ہو جاتے ہیں۔(3) مجھے ہرگز شبہ نہیں کہ معترض کے الفاظ اپنے دل پر سے خدا کی تصویر کا عکس ہی کیوں نہ اتر والیا کو کوئی سمجھدار انسان قابل التفات قرار دے سکتا ہے۔روحانی تصویر اور دل میں ، پھر اس کا عکس اُتار کر ظاہری فوٹو بنا کر خدا کی تصویر بنادی جائے ، یہ مقولہ یقیناً حماقتوں کا مجموعہ ہے۔اسی موقع کیلئے سعدی مرحوم فرما گئے ہیں ع جواب حسب اہلاں باشد خموشی حضرت مسیح موعود کا حکم اپنے فوٹو کے متعلق ہاں معترض نے اس ضمن میں ایک بات لکھی ہے اس کی تردید ضروری ہے اور وہ یہ کہ -: " مرزا صاحب نے اپنی عکسی تصویر اتروا کر مریدوں میں تقسیم کروائی۔“ 463 ( عشره صفحه ۱۰۲)