تفہیماتِ ربانیّہ — Page 464
معترض پٹیالوی نے اس بیان میں بھی غلط بیانی کو شیر مادر سمجھا ہے۔حضرت مرزا صاحب نے اپنی تصویر اتروا کر مریدوں میں ہر گز تقسیم نہیں کی۔ہاں حضور نے ایک ضرورت شرعی کے لئے تصویر اتروائی ہے۔اس بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مکمل بیان درج ذیل کرتا ہوں۔حضور فرماتے ہیں :- میں اس بات کا سخت مخالف ہوں کہ کوئی میری تصویر کھینچے اور اس کو بت پرستوں کی طرح اپنے پاس رکھے یا شائع کرے۔میں نے ہرگز ایسا حکم نہیں دیا کہ کوئی ایسا کرے اور مجھ سے زیادہ بت پرستی اور تصویر پرستی کا کوئی دشمن نہیں ہوگا لیکن میں نے دیکھا ہے کہ آجکل یوروپ کے لوگ جس شخص کی تالیف کو دیکھنا چاہیں اول خواہشمند ہوتے ہیں جو اس کی تصویر دیکھیں کیونکہ یورپ کے ملک میں فراست کے علم کو بہت ترقی ہے اور اکثر ان کے محض تصویر کو دیکھ کر شناخت کر سکتے ہیں کہ ایسا مدعی صادق ہے یا کاذب۔اور وہ لوگ بباعث ہزار ہا کوس کے فاصلہ کے مجھ تک پہنچ نہیں سکتے اور نہ میرا چہرہ دیکھ سکتے ہیں۔لہذا اُس ملک کے اہلِ فراست بذریعہ تصویر میرے اندرونی حالات میں غور کرتے ہیں کئی ایسے لوگ ہیں جو انہوں نے یوروپ یا امریکہ سے میری طرف چٹھیاں لکھی ہیں اور اپنی چٹھیوں میں تحریر کیا ہے کہ ہم نے آپ کی تصویر کو غور سے دیکھا اور علم فراست کے ذریعہ سے ہمیں ماننا پڑا کہ جس کی یہ تصویر ہے وہ کا ذب نہیں ہے۔اور امریکہ کی ایک عورت نے میری تصویر کو دیکھ کر کہا کہ یہ یسوع یعنے عیسی علیہ السلام کی تصویر ہے پس اس غرض سے اور اس حد تک میں نے اِس طریق کے جاری ہونے میں مصلحتا خاموشی اختيار كى وإنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنیات۔اور میرا مذ ہب یہ نہیں ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ملوک عجم کو خطوط لکھنے کا ارادہ کیا تو آپ سے عرض کیا گیا کہ وہ بغیر ہر کوئی خطا نہیں پڑھتے اس پر حضور نے مہر تیار کر والی۔(مؤلف) (464)