تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 462 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 462

حرکت پیدا ہو جاتی ہے یا سانس کے آتے ہی ہوا میں تموج پیدا ہوتا ہے یا جدھر آنکھ دیکھتی ہے اُدھر ہی آنکھ کا نور بلا ارادہ کام میں لگ جاتا ہے یا جدھر انسان چلتا ہے اُس طرف اُس کا سایہ بھی حرکت کرنے لگ جاتا ہے۔یہ تمام مثالیں اطاعت تامہ کے اظہار کے لئے انسانی مشاہدات کے مطابق دی گئی ہیں۔ان کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ جبریل خدا کا سانس، اس کی آنکھ کا نور، یا اس کے جسم کا سایہ ہے۔حاشا وکلا۔اصل عبارت آپ کے سامنے ہے۔خود فیصلہ فرما سکتے ہیں معترض نے اپنی نقل کردہ عبارت میں خیانت سے الفاظ کو ادل بدل کر دیا ہے اسلئے ہم نے حوالہ اصل الفاظ میں درج کر دیا ہے۔معترض ”خدا کے سایہ کو مشرکانہ عقیدہ بتاتا ہے حالانکہ یہ ایک لطیف استعارہ ہے۔سب لوگ کہتے ہیں السُّلْطَانُ ظِلُّ اللہ بادشاہ خدا کا سایہ ہے۔کیا اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا ایک جسم ہے اور اس کا یہ بادشاہ سایہ ہے؟ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خدا فرماتا ہے کہ سات آدمی میرے سایہ میں ہوں گے اُس دن جب میرے سایہ کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا۔سَبْعَةٌ تَحْتَ ظِلَّى يَوْمَ لَا ظِلَّا إِلَّا ظِلُّ اللَّهِ تو کیا اس سے یہ مراد ہے کہ خدا مجسم ہے اور اس کا سایہ دیوار کے سایہ کی طرح ہوگا ؟ اُردو زبان میں سایہ عاطفت" کہتے ہیں، کیا عاطفت کوئی مجسم چیز ہے؟ نیز یا درکھنا چاہئے کہ سایہ کا لفظ متابعت کے لئے استعارۂ مستعمل ہوتا ہے۔ضرب المثل ہے هُوَ اطْوَعُ لَكَ مِنْ ظِلِكَ وہ تیرے سایہ سے بھی زیادہ تیرا مطیع ہے۔پس اول تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریر میں جبریل کو خدا کا سایہ لکھا نہیں لیکن اگر ہوتا تب بھی قابل اعتراض نہ تھا۔کیونکہ اسکے یہی معنے تھے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی پوری طرح متابعت کرتا ہے۔اور خود قرآن مجید کہتا ہے وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ ( تحریم رکوع ۱ ) کہ فرشتے وہی کرتے ہیں جو اُن کو حکم دیا جاتا ہے۔جبریل اُن میں سے مقدم ہے۔اسلئے بخاری شریف میں رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : إذا أَحَبَّ اللَّهُ الْعَبْدَ نَادَى جِبْرِيلَ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ فَلَانًا {(462)