تفہیماتِ ربانیّہ — Page 399
بے معنی درخواست تھی کہ کفار پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے اس امر کے طالب تھے کہ ہم کو بھی صاحب کتاب رسول بناوے۔جو کسی حالت میں قابل منظوری نہ تھی۔اس لئے جواب دلوادیا گیا کہ بے وقوفو! میں تو خود ایک بشر اور رسول ہوں۔کیا مجھ میں خدائی طاقتیں بھی ہیں جو تم کو بھی اپنے جیسا رسول بنا دوں۔“ ( عشره صفحه ۸۸-۸۹) قارئین کرام ! إن نکات تفسیریہ کو پڑھئے اور سر دھنئے۔کیا یہ تعجب کا مقام نہیں کہ ایسے ایسے واقف اسرار بھی احمدیت کی تردید میں اپنے آپ کو تیں مارخاں“ سمجھتے ہیں۔بت کریں آرزو خدائی کی شان ہے تیری کبریائی کی مجھے یقین ہے کہ اس فقرہ کی یہ تشریح کفار عرب کے وہم میں بھی نہ آئی ہوگی۔آج اگر وہ لوگ زندہ ہوتے تو منشی محمد یعقوب کو اپنا سر دار تسلیم کرتے۔اچھا! ان کے لئے یہی خوشی کافی ہے کہ ابھی دنیا میں ایسے سپوت موجود ہیں جو ع کے حقیقی مصداق ہیں۔پدر نتواند پسر تمام کند گستاخی معاف ! مؤلف صاحب عشرہ کاملہ ! آپ پہلے تو لکھ چکے ہیں کہ " مرید ہی گواہ ہو سکتے ہیں“ (عشرہ صفحہ ۷۸ ) مگر اب یہ کیا فرمارہے ہیں کہ ” وہ جانتے تھے کہ پیغمبر خدا صلے اللہ علیہ وسلم آسمان پر جاچکے ہیں۔کیا یہ کفار آنحضرت کے مرید تھے؟ اجی ایک ہی فصل میں اتنا تہافت؟ سوچئے تناقض اس کو کہتے ہیں۔سچ ہے :- وَلَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا (399)