تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 400 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 400

ہاں لگے ہاتھوں یہ بھی بتادیجئے کہ کفار کے اس علم اور جانے کا ثبوت کہاں ہے؟ غور کریں گے تو پتہ لگے گا کہ بے حوالہ بات کرنا اسے کہتے ہیں۔آپ نے تُنَزِّلَ عَلَيْنَا كِتَاباً كا جدید ترجمہ اور نئی تفسیر یوں بیان کی ہے کہ :- " کفار پیغمبر خدا صلے اللہ علیہ وسلم سے اس امر کے طالب تھے کہ ہم کو صاحب کتاب رسول بنا دے۔“ ہم تو حیران ہیں کہ اس حرکت کا نام حماقت رکھیں یا اسے شرارت سمجھیں۔دھوکہ دہی پر محمول کریں یا کم علم ہونے کا عملی ثبوت سمجھیں۔خیر ہم کچھ بھی نام نہیں رکھتے ، یہ ناظرین کا اپنا کام ہے۔گویا وہ کفار جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مفتری اور کا ذب سمجھ رہے ہیں آپ کی صداقت کی دلیل کے طور پر یہ معجزہ مانگ رہے ہیں کہ تو خود ہم کو صاحب کتاب رسول بنادے؟ افسوس گر ہمیں مکتب است و این ملاں کار طفلاں تمام خواهد شد کیا وہ یہ چاہتے تھے کہ بزعم خویش ہم بھی مفتری بن جائیں؟ اگر مؤلّف عشرہ اس آیت پر ہی غور کر لیتے تو کفار کا قول ” نقر وہ “ ( ہم اس کتاب کو پڑھ لیں) ان کی رہنمائی کر سکتا تھا۔کیونکہ اگر وہ صاحب کتاب رسول بننے کے خواہاں ہوتے تو بجائے ”نقروہ “ کے یوحی الینا “ لفظ بولتے۔یعنی وہ کتاب ہماری طرف بطور وحی آتی۔پھر جب وہ یہ چاہتے تھے کہ ہم صاحب کتاب رسول بن جائیں تو نقروہ کے کیا معنی تھے ؟ نیز ان کا اس وقت آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کے اقرار کا کیا مطلب ہے؟ اے کاش که اگر منشی صاحب تاریخ و حدیث سے ناواقف تھے تو اسلوب قرآن مجید پر ہی توجہ فرماتے۔مگر افسوس کہ کم علمی ہر چہار طرف سے احاطہ کئے ہوئے ہے۔بیچ ہے۔(400)