تفہیماتِ ربانیّہ — Page 390
بھی درست ہے تو معلوم ہوا کہ واقعہ دو ہیں اور علیحدہ علیحدہ ہیں۔لہذا بعل کے پجاری اور چارسو نبی الگ الگ ہیں۔دوم - دونوں قسم کے نبیوں کی تعداد میں اختلاف ہے۔لکھا ہے :- (الف) ایلیاہ نے ان لوگوں کو کہا خداوند کے نبیوں میں سے میں ہاں میں ہی اکیلا باقی ہوں۔پر بعل کے نبی چار سو پچاس آدمی ہیں۔(۱۔سلاطین ۱/۲۲) (ب) تب شاہ اسرائیل نے اس روز نبیوں کو جو قریب چار سو آدمی کے تھے اکٹھا کیا۔(۱۔سلاطین /۲۲) یہ اختلاف بھی بتاتا ہے کہ بعل کے نبی اور تھے اور بائیسویں باب والے نبی اور تھے۔سوم۔سلاطین باب ۲۲ میں جن نبیوں کا ذکر ہے ان کا مقابلہ میکا یاہ نبی سے کئی سال بعد ہوا لیکن باب ۱۸ میں بعل کے جن نبیوں کا ذکر ہے ان کا مقابلہ باب بائیسویں کے واقعہ سے تین سال قبل ایلیاہ نبی کے ساتھ ہو ا تھا۔لکھا ہے :۔” جب ان سب لوگوں نے یہ دیکھا تو وہ اوندھے منہ گرے اور بولے خداوند و ہی خدا ہے۔خداوند وہی خدا ہے۔ایلیاہ نے انہیں کہا بعل کے نبیوں کو پکڑ لو کہ ان میں سے ایک بھی جانے نہ پائے۔سوانہوں نے انہیں پکڑا اور ایلیاہ ان کو وادی قیسون میں لایا اور انہیں قتل کیا۔“ ( سلاطین ۱ ۱۸/۲۰) پس معلوم ہوا کہ بعل کے نبیوں کا قضیہ حضرت ایلیاہ کے سامنے واقع ہوا اور انہوں نے وادی قیسون میں ان کو قتل کر دیا۔اب اس کے تین سال بعد کے حالات باب ۲۲ میں مذکور ہیں اور وہاں پر چار سونبیوں کی ایک بات کا ذکر ہے۔اور یہ نبی وہ ہیں جن کو اسرائیلی ( یہودی ) بادشاہ خداوند کے نبی کے نام سے یاد کرتا ہے۔یہ واقعات بتاتے ہیں کہ یہ دونوں بیانات بالکل جدا گانہ حیثیت رکھتے ہیں۔بعل کے نبیوں کا ذکر بھی بائیل میں ہے مگر یہ کہنا صریح مغالطہ ہے کہ باب ۲۲ کے چار سو نبی بھی بعل کے پجاری تھے۔(390)