تفہیماتِ ربانیّہ — Page 391
ناظرین! ان حالات کی روشنی میں آپ کو اس بات کے فیصلہ کرنے میں کوئی دقت نہیں ہو سکتی کہ معترض پٹیالوی نے کس قدر خیانت سے کام لیا ہے اور پھر تعجب پر تعجب تو یہ ہے کہ خود خائن ہو کر الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے والی بات کر رہا ہے۔الزام حضرت اقدس پر لگا رہا ہے اور اپنی یہ حالت ہے۔سچ ہے سے چوں خدا خواهد که پرده کس درد به میلش اندر طعنه پاکان رود! اب ہم امور ثلاثہ کے ثبوت سے فارغ ہو چکے۔اب ہم یہ بتاتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس واقعہ سے کیا استدلال فرمایا ہے؟ انبیاء علیہم السلام اور الہام شیطانی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس واقعہ کے ذکر کرنے سے صرف اس امر کا اظہار فرمایا ہے کہ شیطانی الہام بھی ہوتا ہے۔اور اس سے کون عقلمند انکار کرسکتا ہے۔مگر قرآن مجید کی اصطلاح والے نبیوں کو اس سے محفوظ و مصئون کیا جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود تحریر فرماتے ہیں :- واضح ہو کہ شیطانی الہامات ہو نا حق ہے اور بعض نا تمام سالک لوگوں کو ہوا کرتے ہیں۔اور حدیث النفس بھی ہوتی ہے جس کو اضغاث احلام کہتے ہیں۔اور جو شخص اس سے انکار کرے وہ قرآن شریف کی مخالفت کرتا ہے۔کیونکہ قرآن شریف کے بیان سے شیطانی الہام ثابت ہیں اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب تک انسان کا تزکیہ نفس پورے اور کامل طور پر نہ ہو تب تک اس کو شیطانی الہام ہوسکتا ہے اور وہ آیت عَلى كُلِّ أَفَاكٍ آنیم کے نیچے آسکتا ہے مگر پاکوں کو شیطانی وسوسہ پر بلا تو تقف مطلع کیا جاتا ہے۔“ (ضرورۃ الامام صفحہ ۱۳) آيت وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَلَا نَبِي إِلَّا إِذَا تَمَثَى أَلْقَى الشَّيْطَنُ فِي أمنيته کے ماتحت تفسیر جلالین میں تو یہ بھی لکھا ہے کہ سورۃ انجم کے پڑھتے وقت شیطان نے فقره تِلكَ الغَرَانِيقُ العُلى وَإِنَّ شَفَاعَتَهُنَّ لَتُرْتَجي “آنحضرت (391