تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 378 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 378

اى سورة الفتح) << ترجمہ - حدیبیہ والے سال رسول مقبول نے حدیبیہ کی طرف روانگی سے قبل رؤیا دیکھی کہ حضور اور آپ کے اصحاب مکہ میں امن و امان سے داخل ہوئے ہیں۔سر منڈواتے اور بال کتراتے ہیں۔حضور نے اس رویا کی خبر صحابہ کو دی۔وہ بہت خوش ہوئے۔مگر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے اور مقام حدیبیہ پر کفار نے ان کو روک دیا اور انہیں واپس ہونا پڑا تو یہ معاملہ اُن پر بہت شاق گزرا اور بعض منافق تو اسلام کے متعلق ہی شک میں پڑ گئے تو اُس وقت سورۃ الفتح نازل ہوئی۔“ ( جلالین سورة الفتح صفحه ۴۲۴) اس حوالہ میں صاف لفظ ” قبل خروجه “ موجود ہے۔معلوم ہو ا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ رویامد بینہ منورہ میں ہی دیکھی تھی۔دوم - صاحب کمالین نے عَامَ الْحُدَيبَيَّةِ قَبْلَ خُرُوجہ کے ساتھ ہی لکھا ہے :- لِابْنِ جَرِيرٍ أَنَّهُ رَأَى ذَلِكَ بِالْحُدَيبَيَّةِ الْأَول أَصَحُ۔“ ( تفسير سورة الفتح) یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رؤیا کے متعلق دو روایات ہیں۔علامہ سیوطی کی تحقیق قبل خروجہ ہے اور ابن جریر ( جس سے در منشور نے ایک قول نقل کیا ہے جس کو مصنف عشرہ نے درج کیا ہے) کا خیال ہے کہ یہ رویا آنحضرت نے حدیبیہ مقام پر دیکھی تھی مگر پہلا قول یعنی علامہ جلال الدین کی تحقیق زیادہ صحیح اور درست ہے۔ناظرین! معترض پٹیالوی نے محض عداوت کی راہ سے حدیبیہ والی روایت کو صحیح اور باقی روایات کو ضعیف قرار دیا ہے لیکن علامہ جلال الدین سیوطی اور پھر صاحب کمالین کا فیصلہ آپ کے سامنے ہے۔آپ پر ہی فیصلہ ہے کہ چاہے تو ان بزرگوں کی تحقیق کو ترجیح دیں اور چاہے تو حقائق کا انکار کرنے کے عادی منشی محمد یعقوب کے خیال کی پیروی کریں۔وَالْأَوَّلُ أَصَحُ وَأَحْوَطُ - سوم - حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول وَاللَّهِ مَا شَكَكْتُ مُنْذُ أَسْلَمْتُ إِلَّا يَومَئِذٍ (زادالمعاد جلد اصفحہ ۳۷۶) آپ پڑھ چکے ہیں اور بخاری کے حوالہ سے معترض پٹیالوی کے الفاظ (378)