تفہیماتِ ربانیّہ — Page 377
-: امام نووی اپنی شرح مسلم میں لکھتے ہیں : "كَانَ الْأَنْبِيَاءُ صَلَوَاتُ اللهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِمْ يُؤْحَى إِلَيْهِمْ فِي مَنَامِهِمْ كَمَا يُوحَى إِلَيْهِمْ فِي الْيَقظَةِ۔“ ( جلد ۲ صفحہ ۲۴۲) امام ابن القیم کا قول ہے :۔،، رُؤْيَا الْأَنْبِيَاءِ وَحْيٌ فَإِنَّهَا مَعْصُومَةٌ مِنَ الشَّيْطَانِ وَهَذَا بِاتِّفَاقِ الْأُمَّةِ ـ “ کہ نبیوں کی رؤی وحی ہوتی ہے جو شیطان کے دخل سے پاک ہوتی ہے۔اس بات پر سب اُمت کا اتفاق ہے۔“ ( تفسیر منازل السائرین صفحہ ۹) پھر یہ بھی درست ہے کہ اس خواب میں لفظ وقت مقرر نہ کیا گیا تھا مگر اس میں کیا شبہ ہے کہ عمل سے یہی ثابت ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خواب کو اس سال کے لئے خیال فرمایا تھا۔اور بقول منشی یعقوب ” بعض اصحاب کو ( تو ) یقین ہوا کہ ہم اس سال حج کریں گے۔“ اندریں حالات معترض پیٹیالوی کا اس پیشگوئی سے ہی انکار کرنا اس کی صریح غلط بیانی ہے۔وهوالمراد - رؤیا کے مدینہ میں دیکھے جانے پر چودہ شواہد مؤلف عشرہ کاملہ نے دعوی کیا ہے کہ رؤیا دیکھنے کے متعلق صحیح روایت یہی ہے کہ وہ خواب حدیبیہ پہنچنے کے بعد دیکھی گئی ہے۔اور یہ دعویٰ اس کے اس نمبر کے سارے بیان کی جان یا بنیاد ہے۔ہمارے نزدیک یہ دعوئی محض غلط ہے۔چنانچہ ہمارے پاس اپنے بیان کی تائید میں مندرجہ ذیل چود کا ثبوت ہیں۔اوّل علامہ جلال الدین سیوطی تحریر کرتے ہیں :- رَأَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي التَّوْمِ عَامَ الْحُدَيْبِيَّةِ قَبْلَ خُرُوجِهِ أَنَّهُ يَدْخُلُ مَكَةَ هُوَ وَأَصْحَابُهُ أَمِنِينَ وَيُحَلِقُونَ وَيُقَصِرُونَ فَأَخْبَرَ بِذَالِكَ أَصْحَابَهُ فَفَـرِ محـوافَلَمَّا خَرَجُوا مَعَهُ وَصَدَّهُمُ الْكُفَّارُ بِالْحُدَيْبِيَّةِ وَرَجَعُوْا، شَقَ عَلَيْهِمْ بِذَالِكَ وَرَابَ بَعْضُ الْمُنَافِقِينَ نَزَلَتْ (377)