تفہیماتِ ربانیّہ — Page 379
میں یہ بھی پڑھ چکے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خواب کا حوالہ دے کر عرض کیا کہ آپ نے تو فرمایا تھا ہم خانہ کعبہ میں جائیں گے اور طواف کریں گے۔اس پر حضرت رسالتمآب صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں ہم نے کہا تو تھا مگر کیا یہ کہا تھا کہ اسی سال ہم داخل ہوں گے۔(عشرہ صفحہ ۸۴) حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی یہ گفتگو صاف ظاہر کر رہی ہے کہ رو یا مدینہ میں دیکھی گئی تھی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے ذکر بھی فرمایا تھا اور اسی کی بناء پر عمرہ کی تیاری ہوئی تھی ورنہ یہ طرز خطاب اور یہ گفتگو بالکل ناممکن ہے۔پھر ماشککٹ کا مقولہ تو اور بھی بین دلیل ہے۔بھلا اگر خواب مقام حدیبیہ پر رک جانے کے بعد ہی دیکھی جاوے تو اس میں حضرت عمر جیسے راسخ الاعتقاد مومن کے لئے شک کی گنجائش کیسے ہوسکتی ہے؟ پس یہ گفتگو اور یہ مقولہ اس امر پر زیر دست دلیل ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ رویا مدینہ شریف میں ہی دیکھی تھی وهوالمراد - چهارم - عمرہ سے رُک جانے پر صحابہ کرام کی جو پیکر اطاعت اور مجسم تسلیم ورضا تھے یہ حالت تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اٹھو اور قربانیاں ذبح کر کے سر منڈوا دو۔راوی کہتا ہے کہ وَاللهِ مَا قَامَ مِنْهُمْ رَجُلٌ ان میں سے کوئی بھی تعمیل ارشاد کے لئے نہ اُٹھا۔حضور نے یہ حکم تین دفعہ دیا مگر پھر بھی فر غم کے باعث اُن میں سے کوئی نہ اُٹھا۔حضور حضرت ام سلمہ کے پاس گئے اور اس امر کا ذکر کیا۔انہوں نے مشورہ دیا کہ حضور خود جا کر میدان میں قربانی ذبح کر دیں۔چنانچہ آپ نے ایسا ہی کیا۔تب سب لوگوں نے قربانیوں کو ذبح کیا۔(زاد المعاد جلد اصفحہ ۳۷۶) یہ واقعہ صحابہ کرام کے قلق واضطراب اور سراسیمگی کا واضح مظہر ہے۔یہ صاف دلیل ہے کہ ان کو صرف رویا کی بناء پر یہ غم تھا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد صدق الله رسوله الرؤیا کے متعلق امام ابن القیم لکھتے ہیں :- " أَخْبَرَ سُبْحَانَهُ اَنَّهُ صَدَقَ رَسُوْلَهُ رُؤْيَاهُ فِي دُخُولِهم الْمَسْجِدَ امِنِينَ وَأَنَّهُ سَيَكُونَ وَلَا بُدَّ وَلَكِنْ لَمْ يَكُنْ قَدْ آنَ وَقْتَ ذَالِكَ (379)