تفہیماتِ ربانیّہ — Page 361
فَامْتَنَعُوا مِنْهُ فَلَمَّا فَعَلُوا ذَالِكَ أَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ إِنِّي مُرْسِلٌ إِلَيْهِمُ الْعَذَابَ فِي يَوْمٍ كَذَا وَكَذَا فَاخْرُجُ مِنْ بَيْنِ أَظْهُرِهِمْ فَأَعْلَمَ قَوْمَهُ الَّذِى وَعَدَ اللهُ مِنْ عَذَابِهِ إِيَّاهُمْ فَقَالُوا أَرْمُقُوْهُ فَإِنْ خَرَجَ مِنْ بَيْنِ أَظْهُرِكُمْ فَهُوَ وَاللَّهِ كَائِنُ مَا وَعَدَكُمْ فَلَمَّا كَانَتِ اللّيْلَةُ الَّتِى وَعِدُوا بِالْعَذَابِ فِي صَبِيحَتِهَا أَدْلَجَ فَرَأَهُ الْقَوْمُ فَحَذَرُوا فَخَرَجُوا مِنَ الْقَرْيَةِ إِلَى بَرَارٍ مِّنْ أَرْضِهِمُ وَفَرَّقُوْا بَيْنَ كُلِّ دَابَّةٍ وَوَلَدِهَا ثُمَّ عَجُوا إِلَى اللهِ وَآنَابُوا وَاسْتَقَالُوا فَآقَالَهُمُ الله وَانْتَظَرَ يُونُسُ الْخَبَرَ عَنِ الْقَرْيَةِ وَأَهْلِهَا حَتَّى مَرَّ بِهِ مَارٌ فَقَالَ مَا فُعِلَ أَهْلُ الْقَرْيَةِ قَالَ اِنَّ نَبِيَّهُمْ لَمَّا خَرَجَ مِنْ بَيْنِ أَظْهُرِهِمْ عَرَفُوْا أَنَّهُ صَدَقَهُمْ مَا وَعَدَهُمْ مِنَ الْعَذَابِ فَخَرَجُوا مِنَ الْقَرْيَةِ إِلَى بَرَا زِ مِنَ الْأَرْضِ ثُمَّ فَرَّقُوا بَيْنَ كُلِّ ذَاتِ وَلَدٍ وَوَلَدِهَا ثُمَّ عَجُوا إِلَى اللهِ وَتَابُوا فَتَقَبَّلَ مِنْهُمْ وَأَخَرَ عَنْهُمُ الْعَذَابَ فَقَالَ يُونُسُ عِنْدَ ذَالِكَ لَا آرجِعُ إِلَيْهِمْ كَذَاباً اَبَداً وَمَضَى عَلَى وَجْهِهِ ـ أَخْرَجَهُ ابْنُ جَرِيرٍ وَابْنُ حَاتِمٍ۔“ ( فتح البیان جلد ۸ صفحه ۷۹) ترجمہ - اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس کو ان کی بستی والوں کے لئے مبعوث فرمایا انہوں نے اُسے ماننے سے انکار کر دیا ور اس پر مُصر ہوئے۔تب اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس پر وحی نازل کی کہ میں ان پر فلاں دن عذاب نازل کرنے والا ہوں پس تو ان کے درمیان سے نکل جا۔حضرت یونس نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کے اس وعدہ عذاب سے آگاہ کر دیا۔انہوں نے آپس میں کہا کہ یونس کو دیکھتے رہوا گر تو وہ تمہارے درمیان سے باہر نکل گیا تو سمجھو کہ اس نے جو خبر سنائی ہے وہ ضرور ہوکر رہے گی۔جب وہ رات آئی جس کی صبح ان پر عذاب آنے کا وعدہ تھا تو حضرت یونس رات کے وقت نکل گئے۔لوگ انہیں جاتا دیکھ کر گھبرا گئے۔وہ سب بھی بستی سے باہر ایک گھلے میدان میں نکل آئے اور انہوں نے ہر بچت کو اس کی ماں سے علیحدہ کر دیا۔(361)