تفہیماتِ ربانیّہ — Page 360
وَذَا التَّوْنِ اذْ ذَهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ أَن لَّن نَّقْدِرَ عَلَيْهِ فَنَادَى فِي الظُّلُمَتِ أَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا انتَ سُبْحَنَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّلِمِينَ ، فَاسْتَجَبْنَالَهُ وَنَجَيْنَهُ مِنَ الْغَمِ ، وَكَذَلِكَ نتجي الْمُؤْمِنِينَ۔(الانبياء ركوع (۶) وَإِنَّ يُونُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ إِذْ أَبَقَ إِلَى الْفُلْكِ 0 الْمَشْحُونِ ، فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِينَ - الآيات (الصافات رکوع ۵) فَاصْبِرُ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَلَا تَكُن كَصَاحِبِ الْحُوتِ إِذْ نَادَى وَهُوَ مَكْظُوْمٌ ، لَوْلَا أَنْ تَشْرَكَهُ نِعْمَةُ مِن رَّبِّهِ لَبِنَ بِالْعَرَاءِ وَهُوَ مَنْمُوهُ ه (القلم رکوع ۲) ترجمہ۔کیوں کوئی ایسی بستی نہ ہوئی کہ وہ نفع دینے والا ایمان لائی ہو بجز قوم یونس کے۔وہ لوگ جب ایمان لائے تو ہم نے اُن پر سے دنیا میں ذلت کا عذاب دُور کر دیا اور ان کو ایک عرصہ تک فائدہ دیا۔یونس کو یاد کر جبکہ وہ ناراض ہو کر چلا گیا اور اس نے خیال کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے۔اندھیروں میں اس نے پکارا کہ اے خدا بجز تیرے کوئی معبود نہیں تو پاک ہے اور میں ظالم ہوں۔ہم نے اس کی پکار کو سنا اور اس کو غم سے نجات بخشی۔ہم اسی طرح مومنوں کو نجات دیا کرتے ہیں۔یقینا یونس رسولوں میں سے ہے۔خیال کرو جب وہ بھری ہوئی کشتی کی طرف بھاگ کر گیا۔قرعہ پڑا تو اس کو ہی گرایا گیا۔اے نبی ! تو اپنے رب کے حکم پر صبر کر اور مچھلی والے (یونیس) کی طرح مت بن۔جبکہ اس نے غصہ کی حالت میں پکارا۔اگر اس کے رب کی نعمت اس کی دستگیری نہ کرتی تو وہ قابل مذمت قرار دیا جا کر میدان میں پھینک دیا جاتا۔“ ان آیات میں حضرت یونس کی ناراضگی ، ان کے بھاگ جانے ، مچھلی کے منہ میں چلے جانے اور پھر قوم یونس سے عذاب موعود کے ٹل جانے کا ذکر ہے۔معاملہ بالکل صاف ہے کہ عذاب موعود کے ٹل جانے پر حضرت یونس ناراض ہوئے اور بھاگ کھڑے ہوئے۔بہر حال ان آیات سے حضرت یونس کے وعدہ کردہ عذاب کے مل جانے اور پھر ان کے غضبناک ہونے کا نہایت واضح ثبوت ملتا ہے۔اس بات کا انکار تو وہی کر سکتا ہے جومحض ضدی ہو۔احادیث و تفاسیر اور حضرت یونس کا واقعہ (۱) حضرت ابن عباس کی حدیث ہے جس میں لکھا ہے :- بَعَثَ اللَّهُ يُونُسَ إِلَى أَهْلِ قَرْيَتِهِ فَرَدُّوا عَلَيْهِ مَا جَاءَهُمْ بِهِ (360)