تفہیماتِ ربانیّہ — Page 362
خوب روئے چینے اور اللہ تعالیٰ کی طرف مجھکے اور معافی مانگی۔اللہ تعالیٰ نے ان کو معاف فرما دیا۔ادھر ( جنگل میں ) حضرت یونس بستی اور بستی والوں کے بارے میں کسی خبر کے منتظر تھے۔ان کے پاس سے ایک آدمی گزرا انہوں نے اس سے دریافت کیا کہ بستی والوں کے ساتھ کیا ہوا ہے؟ اس نے کہا کہ ان کا نبی جب ان کے درمیان سے چلا گیا تو وہ سمجھ گئے کہ اس نے عذاب کا جو وعدہ دیا تھاوہ سچا ہے پس وہ کھلے میدان میں آگئے اور بچوں کو ماؤں سے الگ کر دیا، توبہ کی اور خدا کے حضور زاری کی۔اللہ تعالیٰ نے اُن کی دعا شن لی اور ان سے عذاب ٹال دیا۔اس پر حضرت یونس نے کہا کہ میں اب ان کی طرف کذاب ہو کر نہیں لوٹوں گا۔چنانچہ وہ وہاں سے آگے چلے گئے۔“ (۲) إِنَّ يُونُسَ عَلَيْهِ السلامُ كان قد وَعَدَ قَومَهُ الْعَذَابَ وَأَخْبَرَهُم أَنَّهُ يَأْتِيهِمْ إلى ثَلقَةِ أَيَّامٍ ترجمہ۔حضرت یونس نے اپنی قوم کو عذاب کا وعدہ دیا اور ان کو خبر دی کہ تین دن تک ان پر عذاب آجائے گا۔(ابن جریر جلد ۱ صفحہ ۱۱۹) (۳) وَكَانَ يُونُسُ قَد وَعَدَهُمُ الْعَذَابَ بِصُبْحِ ثَالِقَةٍ - (ابن جرير جلد اصفحہ ۱۱۸) (۴) امام نیشا پوری لکھتے ہیں :- " وَقِيلَ قَالَ لَهُم يُونُسُ إِنَّ أَجَلَكُمْ أَرْبَعُونَ لَيْلَةً فَقَالُوا إِنْ رَأَيْنَا أَسْبَابَ الْهَلَاكِ امَنَّا بِكَ فَلَمَّا مَضَتْ خَمْسٌ وَثَلَاثُونَ آغَامَتِ السَّمَاءُ غَيْماً أَسْوَدَهَائِلًا يُدْخِنُ دُخَانًا شَدِيداً ثُمَّ يُهْبِطُ حَتَّى يَخْشَى مَدِينَتَهُمْ وَيَسُودُ سُطُوحَهُمْ فَلَبِسُوا الْمُسُوحَ وَبَرَزُوا إِلَى الصَّعِيدِ بِأَنْفُسِهِمْ وَنِسَاءِ هِمْ وَصِبْيَانِهِمْ۔۔۔وَأَظْهَرُوا الْإِيْمَانَ وَالتَّوْبَةَ وَتَضَرَّعُوا فَرَحِمَهُمْ وَكَشَفَ عَنْهُمْ وَكَانَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ “ (تفسیر النیشابوری جلدا ابر حاشیه ابن جریر جلد ۱ صفحه ۱۱۸) (362)