تفہیماتِ ربانیّہ — Page 29
تنیس برس تک ہلاک نہ ہوئے تو پہلے ان لوگوں کی خاص تحریر سے انکا دعوی ثابت کرنا چاہئے اور وہ الہام پیش کرنا چاہئے جو الہام اُنہوں نے خدا کے نام پر لوگوں کو سنایا۔یعنی یہ کہا کہ ان لفظوں کے ساتھ میرے پر وحی نازل ہوئی کہ میں خدا کا رسول ہوں۔اصل لفظ ان کی وحی کے کامل ثبوت کے ساتھ پیش کرنے چاہئیں۔کیونکہ ہماری تمام بحث وحی نبوت میں ہے جس کی نسبت یہ ضروری ہے کہ بعض کلمات پیش کر کے یہ کہا جائے کہ یہ خدا کا کلام ہے جو ہمارے پر نازل ہوا ہے۔“ (تتمہ اربعین صفحہ ۱۱) اب ہم معترض پٹیالوی کے پیش کردہ ناموں کے متعلق تفصیلاً بحث کرتے ہیں۔ابو منصور معترض پٹیالوی نے اپنے بلند بانگ دعوی کی تائید میں سب سے پہلے ابو منصور بانی فرقہ۔منصور یہ کا ذکر کیا ہے اور منہاج السنہ کے حوالہ سے لکھا ہے کہ اس نے جنت و دوزخ کا انکار کر دیا تھا اور صوم وصلوۃ وغیرہ کا بھی منکر تھا۔پھر لکھا ہے :- ایک مستقل فرقہ کی اُس نے بنیا د رکھی تھی۔ستائیس برس تک نبوت کا دعوئی اور سلطنت کر کے ۳۶۸ ہجری میں مارا گیا۔(عشرہ صفحہ ۱۸) یہ درست ہے کہ ابو منصور مذکور نے نماز و روزہ وغیرہ سے انحراف کیا تھا اور لوگوں کو حکومت کے خلاف بھی بر انگیختہ کرتارہا تھا۔شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے اپنی کتاب منہاج السنتہ میں اس کا ذکر شیعہ فرقوں کے ذیل میں کیا ہے اور اس کی اباطیل کو تفصیلاً بتایا ہے لیکن کسی ایک جگہ بھی اس کے دعوی نبوت کا اور ۲۷ برس تک مہلت پانے کا ذکر نہیں ہے۔ھے کوئی دکھلائے اگر حق کو چھپا یا ہم نے مکذب نے اس مدعی کا ذکر منہاج السنتہ کے حوالہ سے ہی کیا ہے۔پس اس کا فرض ہے کہ وہ اس کے دعوی نبوت کا ثبوت دے لیکن وہ ایسا ہر گز نہیں کر سکتا۔منهاج السنۃ اور دیگر کتب تاریخ سے صرف اس قدر ثابت ہے کہ وہ ایک ملحد انسان تھا اور رافضی خیالات کی ترویج چاہتا تھا۔پھر قدرے الوہیت کا دعویدار بن گیا تھا۔چنانچہ الاستاذ ابو منصور البغدادی اپنی شہرہ آفاق کتاب الفَرقُ فِي الفِرق“ میں 29