تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 28 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 28

کا نام الہام رکھتے ہیں وہ بھی اس آیت کے دائرہ سے باہر ہوں گے۔کیونکہ آیت میں بعض الاقاویل کی شرط موجود ہے۔یعنی وہ اپنی بات اور قول کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرے اور ان الفاظ کو خدا کے الفاظ قرار دے۔خیالی الہام تو محض ایک خود ساختہ اصطلاح ہوگی۔آیت کے الفاظ لفظی الہام کے دعویدار کے لئے اس سزا کو مخصوص بتلاتے ہیں۔برہمو سماجی وغیرہ اس دائرہ سے باہر ہیں۔چہارم۔ایسے مدعی کے لئے از روئے آیت قرآنی چوتھی شرط یہ ہے کہ وہ اپنے اس دعوی کو علی الاعلان پیش کرے اور لوگ اس کی باتوں کے باعث گمراہ ہوتے ہوں۔اگر وہ اس دعوے کو چھپاتا ہے یا اس کو تحدی کے ساتھ پیش نہیں کرتا یا لوگ اس کے باعث فتنہ میں نہیں پڑتے تو وہ مدعی بھی اس سزا کے نیچے نہ آئے گا۔به شرط نقره فَمَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ عَنْهُ حَاجِزِينَ سے مستنبط ہے۔ان چار شرائط کے ماتحت ہمیں کسی مدعی کی زندگی اور اس کے دعونے پر غور کرنا چاہئے۔ان شرائط کا خلاصہ یہ ہے کہ :- د کوئی شخص عمداً اپنی طرف سے بعض کلمات تراش کر یا ایک کتاب بنا کر پھر یہ دعوی کرے کہ یہ باتیں خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور اس نے مجھے الہام کیا ہے۔اور ان باتوں کے بارے میں میرے پر اس کی وحی نازل ہوئی ہے۔حالانکہ کوئی وحی نازل نہیں ہوئی۔(انجام آتھم صفحہ ۶۳ حاشیہ) اب اگر ان میں سے کوئی ایک شرط بھی مفقود ہو مثلاً وہ مدعی مجنون ہو۔کوئی اس کی وجہ سے فتنہ میں نہ پڑتا ہو۔یا وہ اپنے دعویٰ کو علی الاعلان ذکر نہ کرتا ہو یا وہ اپنے وجود کو علیحدہ سمجھ کر اپنی باتوں کو خدا کی طرف منسوب نہ کرتا ہو بلکہ اپنے خیالات کو ہی الہام کہتا ہو تو اِن تمام صورتوں میں اس کا بیچ رہنا یا مہلت پانا ہمارے استدلال یا آیت قرآنی کی تحدی کے خلاف نہ ہوگا۔مکذب پٹیالوی نے ایک جگہ ضمنا اکبر بادشاہ کا بھی ذکر کیا ہے۔حالانکہ نہ اس کی طرف سے نہ کسی اور کا ذب کی طرف سے ایسا دعویٰ پیش کیا جا سکتا ہے۔سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کے متعلق جوابا تحریر فرمایا ہے :- اگر یہ سچ ہے کہ ان لوگوں (اکبر وغیرہ) نے نبوت کے دعوے کئے اور 28