تفہیماتِ ربانیّہ — Page 30
ابو منصور العجبی مدعی مذکور کے متعلق لکھتے ہیں :- ” وَادَّعَى هَذَا الْعَجَلِيُّ أَنَّهُ خَلِيفَةُ الْبَاقِرِ ثُمَّ الْحَدَ فِي دَعْوَاهُ فَزَعَمَ أَنَّهُ عُرِجَ بِهِ إِلَى السَّمَاءِ وَ انَّ اللهَ تَعَالَى مَسَحَ بِيَدِهِ عَلَى رَأسِهِ وَقَالَ لَهُ يَا بُنَيَّ بَلِّغْ عَنِّى ثُمَّ انْزَلَهُ إِلَى الْأَرْضِ وَزَعَمَ أَنَّهُ الْكِسْفُ السَّاقِط مِنَ السَّمَاءِ الْمَذْكُورُ فِى قَولِه ( وَإِن يَرَوْا كِسْفًا مِن السَّمَاءِ سَاقِطًا يَقُولُوا سَحَابٌ مَّرْكُوهُ وَكَفَرَتْ هَذِهِ الطَّائِفَةُ بِالْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ وَتَاوَّلُوا الْجَنَّةَ عَلَى نَعِيمِ الدُّنْيَا وَالنَّارَ على مِحَنِ النَّاسِ فِي الدُّنْيَا وَاسْتَحَلُّوا مَعَ هَذِهِ الضَّلَالَةِ خَنُقَ مُخَالِفِيْهِمْ وَاسْتَمَرَّتْ فِتْنَتُهُمُ عَلَى عَادَتِهِمْ إِلَى أَنْ وَقَفَ يُوْسُفَ بن عُمَرَ التَّقْفِيُّ وَآتَى الْعِرَاقُ فِي زَمَانِهِ عَلَى عَوْرَاتِ الْمَنْصُورِيَّةِ فَأَخَذَ أَبَا مَنْصُورِ الْعَجَلِي وَصَلَبَهُ۔“ ( صفحه ۲۳۴) ترجمہ ابو منصور مذکور نے یہ دعویٰ کیا کہ وہ امام باقر کا خلیفہ ہے۔بعد ازاں اپنے دعوئی میں الحاد سے کام لیا اور کہا کہ اس کو آسمان پر اُٹھایا گیا۔اللہ تعالیٰ نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔اور فرمایا کہ میرے بیٹے میری طرف سے تبلیغ کر۔پھر اس کو زمین پر اُتارا۔اس کا خیال تھا کہ آیت وان پروا میں جس الكسف الساقط “ کا ذکر ہے وہ میں ہوں۔منصور یہ فرقہ نے قیامت، جنت اور دوزخ کا انکار کر دیا ہے۔اور جنت سے مراد تا ویلا دنیا کی نعمتیں اور دوزخ سے مرادنیا کی مصیبتیں لی ہیں۔اس قدر ضلالت کے باوجود یہ لوگ اپنے مخالفوں کو گردن زدنی سمجھتے ہیں۔ان کا فتنہ جاری رہا تا وقتیکہ یوسف بن عمر ثقفی کو آگاہی ہوئی اور اس نے ان کے معائب کو دریافت کیا اور ابو منصور بجلی کو پکڑ کر صلیب پر ماردیا۔“ اس اقتباس سے میں دو باتوں کی طرف آپ کی توجہ خاص طور پر مبذول کرانا چاہتا ہوں :- اول - ابو منصور کا دعویٰ ہرگز نبوت کا نہیں تھا۔وحی والہام کا نہیں تھا۔اس کا کوئی الہام پیش نہیں کیا گیا۔ہاں اس نے الحاد اور بے دینی اختیار کی اور شیعوں کے ایک حصہ 30