تفہیماتِ ربانیّہ — Page 288
اس کتاب کا جواب لکھنے کے لئے تیار ہو گا وہ عنقریب دیکھ لے گا کہ وہ نادم ہوا اور حسرت کے ساتھ اُس کا خاتمہ ہوا۔چنانچہ محمد حسن فیضی ساکن بھیں تحصیل چکوال ضلع جہلم مدرس مدرسہ نعمانیہ واقعہ شاہی مسجد لاہور نے عوام میں شائع کیا کہ میں اس کتاب کا جواب لکھتا ہوں۔اور ایسی لاف مارنے کے بعد جب اُس نے جواب کے لئے نوٹ تیار کرنے شروع کئے اور ہماری کتاب کے اندر بعض صداقتوں پر جو ہم نے لکھی تھیں لَعْنَةُ اللهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ لکھا تو جلد ہلاک ہو گیا۔دیکھو مجھ پر لعنت بھیج کر ایک ہفتہ کے اندرہی آپ لعنتی موت کے نیچے آ گیا۔کیا یہ نشانِ الہی نہیں؟“ ( نزول اسیح صفحه ۱۹۳ - ۱۹۴) پس حقیقۃ الوحی میں جس الہام کی اشاعت کا ذکر ہے وہ من قام للجواب والا ہے۔اور اس میں تمام علماء کو مخاطب کیا گیا۔اب خلاصہ جواب یہ ہے کہ الحکم میں پیر گولڑوی صاحب کے بالمقابل تفسیر نویسی ،ہتر دن والی میعاد کی مجوزہ صورت میں ،اس کے مخاطب ہونے کا ذکر ہے اور حقیقۃ الوحی میں بعد طبع کتاب اعجاز المسيح من قام للجواب“ کی الہامی تحدی کے ماتحت تمام علماء کے مخاطب کئے جانے کا ذکر ہے۔لہذا کوئی اختلاف نہیں، محض معترض کی اپنی عقل کا قصور ہے۔(ب) پھر پٹیالوی صاحب نے لکھا ہے :- الحکم کی عبارت سے ظاہر ہوتا ہے کہ فریقین میں پہلے سے یہ قرار پایا تھا کہ ستر دن کے اندر چار چار جزو کی تفسیر فریقین کھیں۔حقیقۃ الوحی سے معلوم ہوتا ہے کہ تفسیر لکھنے کے بعد مرزا صاحب نے اعلان کیا تب پیر گولڑوی تفسیر لکھنے کے لئے کھڑے ہوئے۔“ (عشره صفحه ۶۶) الجواب۔دونوں نتیجے صحیح ہیں۔صرف تفسیر لکھنے کے لئے“ کی جگہ تفسیر انجاز اسح) کا جواب لکھنے کے لئے ہے۔کیونکہ حقیقة الوحی میں جو اعلان بے نظیری کتاب اعجاز اسیح مذکور ہے اس کو حضرت خود نزول اسی میں” مَنْ قَامَ لِلْجَوَابِ وَتَنَمَّرَ فَسَوْفَ يَرَى أَنَّهُ تَنْدَمَ وَتَذَمَّرَ “ کی تحدی عام کا مترادف قرار دے چکے ہیں اور (288)