تفہیماتِ ربانیّہ — Page 289
حقیقۃ الوحی کے الفاظ بھی اسی کی طرف رہنمائی کر رہے ہیں۔وہاں یہ لکھا ہے کہ:۔تب ایک شخص پیر مہرعلی نام ساکن گولڑہ نے یہ لاف و گزاف مشہور کی کہ گویاوہ ایسا ہی رسالہ ( اعجاز اسیح کی طرح۔مؤلف ) لکھ کر دکھلائے گا“ یعنی پیر صاحب نے حسب تحریر الحکم بالمقابل تفسیر سورۂ فاتحہ عربی سشر دن میں لکھنے سے گریز کیا۔ہاں جب حضرت اقدس نے میعاد کے اندر اعجاز اسیح شائع فرمائی تو مطابق عبارت حقیقۃ الوحی اس نے اعجاز اسیح کے جواب کا دعوی کیا اور کہا کہ میں بھی ایسی کتاب لکھوں گا۔بہر حال الحکم کی تحریر اور حقیقۃ الوحی کے بیان میں کوئی اختلاف نہیں۔متذکرہ بالا جواب کی تائید اور توضیح کے لئے ہم ذیل میں نزول امسیح کا ایک اقتباس درج کرتے ہیں۔حضور تحریر فرماتے ہیں :- اس کتاب ( سیف چشتیائی) کے پہنچنے سے پہلے ہی مجھ کو یہ خبر پہنچ چکی تھی کہ اعجاز اسیح کے مقابل پر وہ ایک کتاب لکھ رہے ہیں مگر مجھ کو یہ امید نہ تھی کہ وہ میری عربی کتاب کا جواب اُردو میں لکھیں گے۔بلکہ مجھے یہ خیال تھا کہ چونکہ اکثر با سمجھ لوگوں نے پیر صاحب کی اُس مکارانہ کاروائی کو پسند نہیں کیا جو انہوں نے لاہور میں کی تھی۔اسلئے ندامت مذکورہ بالا کا داغ دھونے کے لئے ضرور انہوں نے یہ ارادہ کیا ہوگا کہ میرے مقابل تفسیر نویسی کے لئے کچھ طبع آزمائی کریں اور میری کتاب اعجاز مسیح کی مانند سورہ فاتحہ کی تفسیر عربی فصیح بلیغ میں شائع کر دیں تا لوگ یقین کرلیں کہ پیر جی عربی بھی جانتے ہیں اور تفسیر بھی لکھ سکتے ہیں۔لیکن افسوس کہ میرا یہ خیال صحیح نہ نکلا۔“ ( نزول المسیح صفحه ۵۳) اس اقتباس کو پڑھنے کے بعد کون عقلمند ہے جو حقیقۃ الوحی اور الحکم کی تحریر میں اختلاف قرار دے؟ هَلْ فِيكُمْ رَجُلٌ رَشِيدٌ۔(ج) آخری اور بھاری اختلاف معترض نے بایں الفاظ درج کیا ہے :- الحکم کی تحریر سے پایا جاتا ہے کہ تفسیر شائع ہونے سے پہلے ہی الہام (289)