تفہیماتِ ربانیّہ — Page 287
اسلئے الحکم کا لکھنا بھی درست ہے۔مگر پیر صاحب کے علاوہ ان کے حامی تمام علماء کو بھی دعوت دی گئی تھی اسلئے حقیقۃ الوحی میں کوئی مولوی کی شرط بھی ٹھیک ہے۔پہلا بیان مخاطب اوّلاً وبالذات سے متعلق ہے اور دوسری تحریر میں مخاطبین ثانیا و بالتبع کا ذکر ہے حضرت اقدس نے ۱۵ دسمبر ۱۹۰۰ ء کے اشتہار میں صاف لکھا تھا :- (۱) پیر صاحب دلگیر نہ ہوں ہم ان کو اجازت دیتے ہیں کہ وہ بے شک اپنی مدد کے لئے مولوی محمد حسین بٹالوی اور مولوی عبد الجبار غزنوی اور مولوی محمد حسن بھیں وغیرہ کو بلا لیں۔بلکہ اختیار رکھتے ہیں کہ کچھ طمع دے کر دو چار عرب کے ادیب بھی ملا لیں۔(۲) ان ( پیر صاحب) کی حمایت کرنے والے اگر ایمان سے حمایت کرتے ہیں تو اب ان پر زور دیں ورنہ ہماری یہ دعوت آئندہ نسلوں کے لئے بھی ایک چمکتا ہو اثبوت ہماری طرف سے ہوگا کہ اس قدر ہم نے اس مقابلہ کے لئے کوشش کی۔پانسو روپیہ انعام دینا بھی کیا لیکن پیر صاحب اور ان کے حامیوں نے اس طرف رُخ نہ کیا۔“ پس اول تو اس لحاظ سے بھی ” کوئی مولوی کی شرط بالکل درست ہے لیکن اس جگہ تو معاملہ بہت ہی واضح ہے کیونکہ حضرت اقدس نے جب اعجاز اسی تحریر فرمائی تو اسی اثناء میں آپ کو الہام ہوا کہ جو کوئی اس کتاب کا جواب لکھنے کے لئے کھڑا ہو گا سخت نادم ہوگا۔اور آپ نے اس الہام کو اعجاز اسیح کے سرورق پر شائع فرمایا۔فرض کر لو کہ بالمقابل تفسیر نویسی کے لئے ستر دن کی میعاد والی صورت محض پیر گولڑوی صاحب سے مخصوص تھی لیکن اعجاز اسی کے طبع ہو جانے کے بعد جواب کے لئے صدائے عام تھی جس میں سب مولوی عاجز آگئے۔ایک مولوی محمد حسن بھیں اُٹھا مگر جانتے ہو اُس کا کیا حشر ہوا۔پڑھو حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں :- " کتاب اعجاز اسیح کے بارے میں یہ الہام ہوا تھا کہ من قام للجواب وتنمر فسوف يرى انه تندم و تذمر یعنی جو شخص غصہ سے بھر کر (287)