تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 281 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 281

ور غلا سکتے مگر خدا تعالیٰ نے ان کی ذلت کے لئے ان کے گھر میں سامان رکھ دیئے ہیں۔چنانچہ اعجاز المسیح “ کی اشاعت کے ایک عرصہ بعد خود پیر صاحب نے اعجاز المسیح کے رد میں بزبان اُردو ایک رسالہ موسومه سیف چشتیائی“ (جون ۱۹۰۲ء میں ) شائع کیا جو آج تک موجود ہے۔اور اس کے شروع میں لکھا ہے :- د شمس الہدایہ کے جواب میں مرزا قادیانی کے امروہی مرید نے شمس بازغہ لکھا اور مرزا نے تفسیر فاتحہ چھپوائی تو دوبارہ اہلِ اسلام اور میرے احباب نے مجھے مجبور کیا کہ اس کے جواب میں قلم فرسائی کروں۔گو بہت کچھ انکار کیا گیا اور کہا گیا آنکس که بقرآن و خبر زونہ رہی به آنست جوابش کہ جواہش نہ رہی لیکن پھر یہی سوال پیش آیا کہ مرزا قادیانی اور اس کے مریدوں سے کیا غرض ہے۔عوام مسلمانانِ ہندو و پنجاب کے فائدے کے لئے ہی سہی۔لہذا مجبوراً یہ چند اوراق لکھ کر مولوی غازی صاحب کے حوالہ بغرض طبع کر دیئے۔( ٹائٹل صفحہ ۲) کیا پیر صاحب حضرت مرزا صاحب سے مخاطب ہوئے یا نہیں؟ پھر سورۂ فاتحہ کی تفسیر کے لئے یہ عذر کیونکر پیش کیا جاسکتا ہے۔حقیقت یہی ہے کہ تفسیر نویسی میں مقابلہ سے طاقت بالا نے ان کو روک دیا تھا۔” مَنَعَهُ مَانِعٌ مِنَ السَّمَاءِ الغرض معترض پٹیالوی کا یہ عذر بھی محض سراب ہے ، جھوٹ ہے، بے حقیقہ ہے۔خود پیر صاحب کا عمل اس کے خلاف ہے۔اے پٹیالوی معترض اور اس کے دیو بندی ہمنوا و اسنو اور گوش ہوش سے سُنو کہ سچ ہی غالب رہتا ہے جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے۔تمہارے باطل عذرات آسمانی صداقت کو کب تک پچھپائیں گے۔آفتاب تمہارے سروں پر چمک رہا ہے مگر افسوس تم خواب غفلت میں مخمور ہو اٹھو اور اس نور سے حصہ لو۔چشمہ شیریں سے سیراب ہو۔یاد رکھو موت قریب ہے ، خدا کو کیا منہ دکھاؤ گے ، رکس نے تم کو باطل سے پیار اور راستی سے دشمنی کرنا سکھا یا ؟ نسلِ آدم ہو کر سچائی کو پاؤں تلے (281)