تفہیماتِ ربانیّہ — Page 280
زیادہ درست سمجھتے ہیں۔(۴) قوله : " اس شرمندگی اور بدنامی کو مٹانے کے لئے مرزا صاحب نے پیر صاحب کو لکھا کہ سورہ فاتحہ کی تفسیر چارجز دسٹر“ دن میں میں بھی لکھتا ہوں تم بھی لکھو مگر پیر صاحب بوجہ اقرار جلسہ مذکور مخاطب نہیں ہوئے مرزا صاحب نے خود ہی تفسیر لکھ کر ان کے پاس بھیج دی۔“ (عشرہ صفحہ ۶۷) اقول : - اُلٹا چور کوتوال کو ڈانٹے۔فرار کی راہ پیر صاحب اختیار کریں اور منشی صاحب شرمندگی اور بدنامی کو حضرت سے منسوب کرتے ہیں۔سچ ہے اذالم تستح فاصنع ما شئت۔بہر حال اس عبارت میں امور ذیل کو پٹیالوی صاحب نے تسلیم کر لیا ہے۔(الف) مرزا صاحب نے پیر گولڑوی کو سورہ فاتحہ کی تفسیر لکھنے کیلئے دعوت مقابلہ دی (ب) یہ دعوت تحریری تھی (ج) اس مقابلہ کے لئے سترون کی میعاد فریقین کے لئے مقررتھی۔( ہم اس تحریری دعوت انعامی پانسور و پیر کو او پر درج کر چکے ہیں۔مؤلف ) (3) پیر صاحب نے ستر دن میں سورۂ فاتحہ کی تفسیر شائع نہ کی۔(3) حضرت مرزا صاحب نے ٹھیک میعاد کے اندر تفسیر لکھ کر پیر صاحب کے پاس بھیج دی۔ان امور خمسہ کی تسلیم کے بعد بھی انکار کرنا۔دیانتداری کے منافی ہے ہے جب گھل گئی سچائی پھر اس کو مان لینا نیکوں کی ہے یہ خصلت راہِ حیا یہی ہے پیر صاحب کے میدان مقابلہ میں نہ آنے کی ایک نہایت لچر اور سراسر دروغ وجہ معترض پٹیالوی نے بایں الفاظ درج کی ہے :- پیر صاحب بوجہ اقرار جلسہ مذکور مخاطب نہیں ہوئے۔“ حالانکہ اول تو جلسہ کی فرضی قرار داد کا مفاد مباحثہ سے اعراض کرنا تھا ویس۔دوم پیر صاحب کو کس نے کہا تھا کہ وہ حضرت مرزا صاحب سے مخاطب ہوں۔ان کو تو پیرایۂ عام میں بغیر مرزا صاحب سے مخاطب ہوئے سورہ فاتحہ کی تفسیر لکھنے کی دعوت دی گئی تھی لہذا یہ عذر باطل ہے۔سوم ممکن ہے کہ منشی صاحب اس غلط بیانی سے کسی کو (280)