تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 282 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 282

مت روند و۔خوب سمجھ لو کہ تمہاری تلبیسانہ حرکات اس مضبوط چٹان کا کچھ بگاڑ نہیں سکتیں۔تم خود ریزہ ریزہ ہو جاؤ گے مگر وہ برابر قائم رہے گی۔جَآءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا - برسبیل تذکرہ اس جگہ یہ بتادینا بھی مناسب ہوگا کہ پیر گولڑوی نے سیف چشتیائی کی اشاعت سے جہاں پٹیالوی صاحب کی دروغ بافی کو تار تار کر دیا وہاں اپنی ذلت و رسوائی میں بھی کافی اضافہ کر لیا۔اس اجمال کی تفصیل یوں ہے کہ جب مولوی محمد حسن فیضی بھیں نے اعجاز اسیح کا جواب لکھنے کا ارادہ کیا۔اور ابھی کتاب کے حواشی پر محض نوٹ لکھنے پایا تھا کہ حضرت اقدس کے الہام "مَنْ قَامَ لِلْجَوَابِ وَتَنَمَّرَ فَسَوْفَ يَرَىٰ أَنَّهُ تَنَدِّمَ وَتَذَمَّر۔“ کے مطابق اچانک اُسے ملک الموت نے آدبایا۔اس کی موت کو غنیمت سمجھ کر گولڑوی صاحب نے اصل کتاب بمعہ نوٹوں کے منگوائی اور اپنے نام پر سیف چشتیائی میں وہ نوٹ بتمامہا شائع کر دیئے۔وہ خدا جس نے حضرت کو فرمایا تھا إِنِّي مُهِينٌ مَنْ أَرَادَاهَا نَتَگ اپنے وعدوں کا سچا ہے۔چنانچ چند دن نہ گزرے کہ اس راز کا افشاء ہو گیا اور بالآخر گولڑوی کو اس کا اعتراف کرنا پڑا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس واقعہ کو با تفصیل اپنی کتاب "نزول مسیح میں درج فرمایا ہے۔ہم اختصار کی خاطر صرف گولڑوی کا خط اور مولوی کرم الدین آف بھیں ( جو سلسلہ احمدیہ کا تا حال مخالف ہے) کے خط کا اقتباس درج کرنے پر اکتفا کرتے ہیں۔یادر ہے کہ ان خطوط کی کوئی تردید نہیں ہوئی اور ممکن ہی نہ تھی۔کیونکہ مولوی کرم الدین نے گولڑوی کا اصل خط حضرت کو پہنچادیا تھا۔نیز مؤرخہ ۲۵ نومبر ۱۹۲۹ء کو مباحثہ پٹھانکوٹ میں عاجز راقم نے مولوی کرم الدین کے خطوط مندرجہ نزول مسیح کے حوالجات اس کے سامنے رکھے جن کو اس نے صحیح تسلیم کیا۔ہاں یہ کہا کہ اس وقت میرے اور خیالات تھے۔بہر حال وہ خطوط یہ ہیں _: پیر مہر علی شاہ کا خط ( کارڈ ) محتبی و مخلصی مولوی کرم الدین صاحب سلامت باشند - وعلیکم السلام و و طبع ثانی کے وقت ( عبرتناک مصیبت کے بعد فوت ہو چکا ہے۔(ابوالعطاء) (282)