تفہیماتِ ربانیّہ — Page 256
ناظرین ! اِن ہر سہ عبارات سے ثابت ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو حضرت مسیح کے معجزہ خلق الطیور کا انکار نہیں۔انکار جس چیز کا ہے وہ اس کی مشرکانہ صورت اور تشریح ہے۔آخری اقتباس میں حضور نے اس کو عقلی معجزات کی ذیل میں شمار فرمایا ہے اور یہ صورت اُس زمانہ کے مطابق تھی۔معجزات ہمیشہ زمانہ کے حالات کے مطابق ہو ا کرتے ہیں۔حضرت مسیح کے معجزات اور اُس وقت کی حالت جب حضرت مسیح مبعوث ہوئے اُس وقت یہود میں طلب اور دیگر شعبدہ بازی وغیرہ کے کام بہت رائج تھے اسلئے اس بات کے ماننے میں کوئی حرج نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ہاتھ پر ایسے معجزات عقلیہ ظاہر فرمائے جن سے یہود کی طب اور دیگر امور مغلوب ہو گئے۔چنانچہ علامہ سعدالدین تفتازانی اپنی شہرہ آفاق کتاب ” تلویح میں تحریر فرماتے ہیں :- " ” وَقَدْ حُقِّقَ فِي الْكُتُبِ الْكَلَامِيَّةِ أَنَّ مُعْجِزَةً كُلِّ نَبِيِّ بِمَا يَتَبَاهَى بِهِ قَوْمُهُ بِحَيْثُ لَا يَتَصَوَّرُ الْمَزِيدُ عَلَيْهِ كَالسِّحْرِ فِي زَمَنِ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ وَالطَّبِ فِي زَمَنِ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ وَالْبَلَاغَةُ فِي زَمَنِ سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ عَلَيْهِ السَّلَام ترجمہ علم کلام کی کتابوں میں باتحقیق بتایا گیا ہے کہ ہر نبی کو ای رنگ کا معجزہ دیا گیا جس پر اس کی قوم کو فخر تھا۔اور اس کیفیت و کمیت کی صورت میں دیا گیا جس پر زیادتی ناممکن تھی۔جیسا کہ حضرت موسی کے زمانہ میں سحر اور جادو تھا، اور حضرت مسیح کے وقت میں طلب تھی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور پر بلاغت تھی۔“ وو تلویح شرح توضیح مطبوعہ مصر جلد اول صفحه ۵۲) سلسلہ احمدیہ کے اشد مخالف مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے بھی لکھا ہے :- ” خدا تعالیٰ کی قدیم سے عادت ہے کہ ہر زمانہ میں اس قسم کے معجزات و خوارق منکرین کو دکھاتا ہے جو اُس زمانہ کے لئے مناسب ہوں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت میں سحر کا بڑا زور تھا اس لئے ان کو ایسا معجزہ دیا جو سحر کا ہم جنس یا ہم صورت تھا اور وہ سحر پر غالب آیا۔حضرت عیسی علیہ السلام کے زمانے میں طب کا بڑا چر چا تھا اسلئے اُن کو (256)