تفہیماتِ ربانیّہ — Page 255
مسیح علیہ السلام کے معجزات سے منکر ہیں۔مگر واضح رہے کہ ایسے لوگوں کی اپنی نظر اور فہم کی غلطی ہے۔ہمیں حضرت مسیح علیہ السلام کے صاحب معجزات ہونے سے انکار نہیں۔بے شک ان سے بھی بعض معجزات ظہور میں آئے۔۔( شهادة القرآن صفحہ ۷۷ ) (ب) " مخالف لوگ کہتے ہیں کہ یہ شخص حضرت مسیح علیہ السلام کے خالق طیورا اور می اموات ہونے کا منکر ہے اور اس کو نہیں مانتا۔مگر میرا جواب یہ ہے کہ میں حضرت مسیح کے اعجازی احیاء اور اعجازی خلق کو مانتا ہوں۔ہاں اس بات کو نہیں مانتا کہ حضرت مسیح نے خدا تعالی کی طرح حقیقی طور پر کسی مردہ کو زندہ کیا ہو، یا حقیقی طور پر کسی پرندہ کو پیدا کیا ہو۔کیونکہ اگر حقیقی طور پر حضرت مسیح علیہ السلام کے مُردہ زندہ کرنے اور پرندہ پیدا کرنے کو تسلیم کیا جائے تو اس سے خدا تعالیٰ کی خلق اور اس کا احیاء مشتبہ ہو جائے گا۔مسیح علیہ السّلام کے پرندوں کا حال عصائے موسی کی طرح ہے جیسے وہ سانپ کی طرح دوڑتا تھا مگر ہمیشہ کے لئے اُس نے اپنی اصلی حالت کو نہ چھوڑا تھا۔ایسا ہی محققین نے لکھا ہے کہ مسیح کے پرندے لوگوں کے نظر آنے تک اُڑتے تھے لیکن جب نظر سے اوجھل ہو جاتے تو زمین پر گر پڑتے اور اپنی پہلی۔حالت پر آجاتے تھے۔“ (حمامة البشرى صفحه ۹۰) (ج) واضح ہو کہ انبیاء کے معجزات دو قسم کے ہوتے ہیں (۱) ایک وہ محض سماوی امور ہوتے ہیں جن میں انسان کی تدبیر اور عقل کو کچھ دخل نہیں ہوتا۔جیسے شق القمر، جو ہمارے سید و مولی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ تھا اور خدا تعالیٰ کی غیر محدود قدرت نے ایک راستباز اور کامل نبی کی عظمت ظاہر کرنے کے لئے اس کو دکھایا تھا۔(۲) دوسرے عقلی معجزات ہیں جو اس خارقِ عادت عقل کے ذریعہ سے ظہور پذیر ہوتے ہیں جو الہام الہی سے ملتی ہے۔جیسے حضرت سلیمان کا وہ معجزہ جو صرح مُمَرَّدُ مِنْ قَوَارِيرَ ہے جس کو دیکھ کر بلقیس کو ایمان نصیب ہوا۔اب جاننا چاہئے کہ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ حضرت مسیح کا معجزہ سلیمان کے معجزہ کی طرح صرف عقلی تھا۔“ (ازالہ اوہام طبع اوّل صفحه ۳۰۱) 255