تفہیماتِ ربانیّہ — Page 257
ایسا معجزہ دیا گیا جس نے طبیبوں کو مغلوب کیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مخاطبین وقت کو فصاحت کا ایسا دعوئی تھا کہ وہ اپنے سوا کسی کو اہلِ سخن نہ جانتے تھے۔یہی وجہ ہے کہ وہ بلا د غیر کے لوگوں کو عجم ( گونگے ) نام رکھتے تھے۔لڈ (رسالہ اشاعۃ السنہ جلدے نمبر ۱۰ صفحه ۲۸۹) اس حقیقت کے پیش نظر اب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ان الفاظ کو پڑھئے :- وہ لوگ جو فرعون کے وقت میں مصر میں ایسے ایسے کام کرتے تھے جو سانپ بنا کر دکھلا دیتے تھے اور کئی قسم کے جانور تیار کر کے انکوزندہ جانوروں کی طرح چلا دیتے تھے۔وہ حضرت مسیح کے وقت میں عام طور پر یہودیوں کے ملکوں میں پھیل گئے تھے اور یہودیوں نے ان کے بہت سے ساحرانہ کام سیکھ لئے تھے جیسا کہ قرآن کریم بھی اس بات کا شاہد ہے۔سو کچھ تعجب کی جگہ نہیں کہ خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح کو عقلی طور سے ایسے طریق پر اطلاع دے دی ہو۔جو ایک مٹی کا کھلونا کسی کل کے دبانے یا کسی پھونک مارنے کے طور پر ایسا پرواز کرتا ہو جیسے پرندہ پرواز کرتا ہے یا اگر پرواز نہیں تو پیروں سے چلتا ہو۔“ (ازالہ اوہام طبع سوم صفحه ۱۲۵ حاشیه) ظاہر ہے کہ جو لوگ حضرت مسیح کے ظاہری پرندے مانیں گے اُن کے لئے ضروری طور پر اس قسم کی کوئی تو جیہ کرنی پڑے گی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے وہ تو جیہ فرمائی جو واقعات کے مطابق اور انسانی عقل کے موافق ہے اور پھر معجزہ بھی ہے۔کیونکہ اس صورت پر منجانب اللہ اطلاع دی گئی اور اس کے سامنے باقی لوگ مغلوب ہو گئے اور چونکہ وہ پرندے باتفاق مفترین عارضی اور وقتی زندگی پاتے تھے اس لئے اس کو عمل الترب کا نتیجہ قرار دینا بھی درست ہے۔عمل الترب کی حقیقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں :- اس جگہ یہ بھی جاننا چاہئے کہ سلپ امراض کرنا یا اپنی روح کی گرمی جماد میں (257)