تفہیماتِ ربانیّہ — Page 174
ان معنوں کے رُو سے ضروری ہو جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے مخلص بندوں کی تعریف فرمائے۔اسی کے مطابق موجودہ زمانہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے بڑے مداح حضرت پیغمبر قادیان کی اس نے تعریف فرمائی تو اس میں اعتراض کا کونسا موقعہ ہے؟ جس کی تعریف نبوی کچی اور اصلی تھی اور جس نے عظمت نبوی کی خاطر آیات قرآنی کی روشنی میں حیات مسیح وغیرہ امور کی تردید فرما کر دنیا سے کاذب ، مفتری اور دقبال وغیرہ (نعوذ باللہ ) نام رکھائے تھے خدا نے اُس کی تعریف فرمائی اور جعلی تعریف اور محض دعوئی والوں کو رڈ کر دیا۔سچ ہے یہ رتبہ بلند ملا جس کو مل گیا ہر مدعی کے واسطے دار و رسن کہاں معترض پٹیالوی نے الہام کے حصہ ” یمشی الیت“ پر اعتراض کو بزور پیش نہیں کیا۔شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ اسے اچھی طرح سے معلوم ہے کہ حدیث قدسی میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :- " مَنْ أَتَانِي يَمْشِيْ آتَيْتُهُ هَرُ وَلَةٌ“ کہ جو شخص میرے پاس چل کر آتا ہے میں اُس کے پاس دوڑ کر آتا ہوں۔“ (صحیح مسلم جلد ۲ باب التقرب الی اللہ ) پس جن معنوں میں اللہ تعالیٰ کے لئے دوڑ کر آنا ثابت ہے انہی معنوں میں اس کے لئے مشی یعنی آنا بھی ثابت ہے فلا اعتراض۔(۴) اخْتَرْتُكَ لِنَفْسِي الْاَرْضُ وَالسَّمَاءُ مَعَكَ كَمَا هُوَ مَعِي معترض پٹیالوی حقیقۃ الوحی صفحہ ۷۵ سے یہ الہام درج کر کے لکھتا ہے :- " کیا مرزا صاحب اللہ تعالیٰ کے حکم و قدرت میں شریک ہیں؟ مرزا صاحب کے ملہم کی عربی دانی لفظ ھو سے ظاہر ہوتی ہے یہاں هُمَا چاہئیے۔“ الجواب - اس الہام کا ترجمہ یہ ہے کہ ”میں نے تجھے اپنے نفس کے لئے پسند کیا۔زمین و آسمان تیرے ساتھ ہیں جیسا کہ وہ میرے ساتھ ہیں۔“ (عشرہ صفحہ ۴۷) اس سے (174)