تفہیماتِ ربانیّہ — Page 173
درود پڑھتا ہے یعنی اس کی تعریف کرتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک مقام پر رقم فرماتے ہیں :- بلاشبہ یہ سچ بات ہے کہ حقیقی طور پر کوئی نبی بھی آنحضرت کے کمالاتِ قدسیہ سے شریک مساوی نہیں ہو سکتا بلکہ تمام ملائکہ کو بھی اس جگہ برابری کا دم مارنے کی جگہ نہیں چہ جائیکہ کسی اور کو آنحضرت کے کمالات سے کچھ نسبت ہو۔مگر اے طالب حق ! ارشدك الله تم متوجہ ہوکر اس بات کو سُنو که خداوند کریم نے اس غرض سے کہتا ہمیشہ اس رسول مقبول کی برکتیں ظاہر ہوں اور تا ہمیشہ اس کے نور اور اس کی قبولیت کی کامل شعائیں مخالفین کو ملزم اور لا جواب کرتی رہیں۔اس طرح پر اپنی کمال حکمت اور رحمت سے انتظام کر رکھا ہے کہ بعض افراد امت محمد ید کہ جو کمال عاجزی اور تذلل سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی متابعت اختیار کرتے ہیں، اور خاکساری کے آستانہ پر پڑ کر بالکل اپنے نفس سے گئے گزرے ہوتے ہیں۔خدا ان کو فانی اور ایک مصفا شیشہ کی طرح پا کر اپنے رسول مقبول کی برکتیں ان کے وجود بے نمود کے ذریعہ سے ظاہر کرتا ہے اور جو کچھ منجانب اللہ ان کی تعریف کی جاتی ہے، یا کچھ آثار اور برکات اور آیات ان سے ظہور پذیر ہوتی ہیں۔حقیقت میں مرجع تام ان تمام تعریفوں کا ، اور مصدر کامل ان تمام تعریفوں کا ، اور مصدر کامل ان تمام برکات کا رسول کریم ہی ہوتا ہے اور حقیقی اور کامل طور پر وہ تعریفیں اس کے لائق ہوتی ہیں اور وہی ان کا مصداق اتم ہوتا ہے۔(براہین احمدیہ جلد سوم صفحہ ۲۲۳) بالآخر ہم یہ بھی بتادینا ضروری سمجھتے ہیں کہ آیت الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ میں الحمد مصدر ہے جو فعل معروف و مجہول دونوں سے بنتا ہے (اہمنی للمعروف والمجہول) اور اس کے معنی جس طرح یہ ہیں کہ خدا ہی تمام تعریفوں کا مستحق ہے ویسے ہی یہ بھی ہیں کہ کسی کی تعریف کرنا بھی درحقیقت اسی کو سزاوار ہے کیونکہ وہ عالم السر والشهود ہے، اس کا علم تام ہے، اس کی تعریف ہی سچی اور مستقل تعریف ہوگی۔(173)