تفہیماتِ ربانیّہ — Page 175
حکم و قدرت میں شرکت کا استدلال سراسر باطل ہے۔کیونکہ خود حضرت مرزا صاحب نے اس الہام کی تشریح میں فرمایا ہے :- (خدا) فرماتا ہے کہ زمین و آسمان تیرے ساتھ ہیں جیسا کہ وہ میرے ساتھ ہیں۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آئندہ بہت سی قبولیت ظاہر ہوگی اور زمین کے لوگ رجوع کریں گے اور آسمانی فرشتے ساتھ ہونگے جیسا کہ آج کل ظہور میں آیا۔“ ( براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحه ۶۱) اس اقتباس سے واضح ہے کہ آسمان و زمین کے ساتھ ہونے کا کیا مطلب ہے؟ اسی کی تشریح میں فرمایا ے پھر فرمایا ه آسمان بارد نشاں الوقت میگوید زمیں این دوشاہد از پئے تصدیق من استاده اند آئینہ کمالات اسلام صفحه ۳۵۸) آسماں میرے لئے تو نے بنایا اک گواہ چاند اور سورج ہوئے میرے لئے تاریک و تار تو نے طاعوں کو بھی بھیجا میری نصرت کے لئے تا وہ پورے ہوں نشاں جو ہیں سچائی کا مدار آسماں پر دعوتِ حق کے لئے اک جوش ہے ہو رہا ہے نیک طبعوں پر فرشتوں کا اُتار اسْمَعُوا صَوْتَ السَّمَا جَاءَ الْمَسِيحَ جَاءَ الْمَسِيحِ نیز بشنو از زمین آمد امام کامگار (براہین احمدیہ حصہ پنجم ) اس قدر تصریح کے باوجود اعتراض کرنا یقیناً صداقت کا خون کرنا ہے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ جو شخص خدا تعالیٰ کا ہو جاتا ہے خدا اُس کا ہو جاتا ہے۔مَنْ كَانَ لِلَّهِ كَانَ اللہ لہ۔حضرت کا الہام بھی ہے ” جے تو میرا ہور ہیں سب جگ تیرا ہو۔اسی کے مطابق جو انسان خالص موحد ہو جاتا ہے، انانیت و خواہشات کو بھسم کر دیتا ہے۔ہر چیز اس کے 175)