تفہیماتِ ربانیّہ — Page 128
کا ارتکاب کرتا ہے۔اور پھر اس کو الہام کا غلط ہونا بتلاتا ہے العجب ثم العجب۔تُردُّ عَلَيْكَ اَنْوَارُ الشَّبَابِ کا جواب (۷) تُرَ تُعَلَيْكَ أَنْوَارُ الشَّبَابِ “ وغیرہ الہامات۔اس الہام کو معترض نے درج کر کے لکھا ہے :۔اس الہام سے ٹھیک دو سال بعد چل بسے اور کوئی دینی خدمت ان سے ظاہر نہ ہوئی۔“ (عشرہ صفحہ ۴۲) اس الہام کا مقصد کیا تھا؟ دُور جانے کی ضرورت نہیں منشی محمد یعقوب صاحب نے خود حضرت مسیح موعود کی فرمودہ تشریح درج کر دی ہے جس میں لکھا ہے کہ : میں نے اپنی اور اپنی بیوی کی صحت کے لئے دعا کی تھی جس پر یہ الہام ہوا اس کے معنے خدا تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔صرف اس قدر معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ ہمیں صحت عطا فرمائے گا اور مجھے وہ قوتیں عطا کرے گا جن سے میں خدمت دین کرسکوں۔(عشرہ صفحہ ۴۲) گویا معترض کی اپنی کتاب میں جو حوالہ درج ہے اس سے ثابت ہے کہ ان الہامات کے معنی صحت یاب ہونے کے ہیں اور صحت حضرت ام المؤمنین اور حضور اقدس کو حاصل ہو گئی۔آپ اس کے بعد بقول معترض پٹیالوی دو برس زندہ رہے اور یہ حقیقت ہے کہ اس عرصہ میں آپ نے متعدد ضخیم کتب چشمہ معرفت، حقیقۃ الوحی اور رسالہ پیغام صلح وغیرہ تالیف فرما ئیں۔چشم بد میں کو خدمت اسلام نظر نہ آوے تو یع چشمه آفتاب را چه گناه حضرت ام المؤمنين بفضلہ تعالی آج تک زندہ ہیں۔اللہ تعالی ان کو دیر تک ہمارے سروں پر سلامت رکھے۔آمین۔غرض اس اعتراض کا جواب معترض کی کتاب میں ہی موجود ہے۔مجھے زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں۔خواتین مبارکہ والے اعتراض کا جواب۔(۸) خواتین مبارکہ اور اولاد “ طبع دوم کے وقت آپ وفات پا چکی ہیں۔تاریخ وفات ۲۰ را پریل ۱۹۵۲ بر ہے۔رضی اللہ عنہا 128)