تفہیماتِ ربانیّہ — Page 129
معترض پٹیالوی لکھتا ہے ”اور خواتین مبارکہ سے جن میں سے تو بعض کو اس کے بعد پائے گا تیری نسل بہت ہوگی۔(اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء) اس الہام کے بعد نہ کوئی نکاح ہوا نہ خواتین مبارکہ یا نامبارکہ حاصل ہوئیں اور نہ اولاد ہوئی۔محمدی بیگم والا نکاح شاید اس الہام کو سچ کر دیتا مگر اللہ نے نہ چاہا کہ جھوٹے کو سچا کر دکھائے۔“ (عشرہ صفحہ ۴۲) اگر اشتہار کو ذراغور سے پڑھا جائے تو صاف کھل جاتا ہے کہ مندرجہ بالا الفاظ الہام کے الفاظ نہیں بلکہ خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اپنے الفاظ ہیں جن میں حضور اللہ تعالیٰ کے الہام کے مفہوم اور نتیجہ کو ذکر فرمارہے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ الہامات کے ذیل میں یہ مذکور نہیں۔اللہ تعالیٰ نے آپ سے وعدہ فرمایا کہ تیری نسل بہت ہوگی۔چنانچہ خدا کے فضل سے وہ با برگ و بار ہیں۔معترض کا یہ فقرہ ” اور نہ اولاد ہوئی صریح جھوٹ اور کھلا افتراء ہے کیونکہ ۲۰ فروری کے بعد بشیر اول ۷ / اگست ۱۸۸۷ء کو حضرت میرزا بشیر الدین محمود احمد ( خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ) ۱۲ / جنوری ۱۸۸۹ء کو پیدا ہوئے اور صاحبزادہ میرزا بشیر احمد صاحب ایم، اے، صاحبزادہ میرزا شریف احمد صاحب اور صاحبزادہ میرزا مبارک احمد صاحب آپ کے بعد پیدا ہوئے۔نیز دو صاحبزادیاں تولد ہوئیں۔ناظرین کرام ! جو شخص اس قدر گھلا گھلا افتراء کر سکتا ہے کیا اُس سے کچھ بعید ہے کہ وہ الفاظ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو الہام سے تعبیر کرے۔معترض نے جو لکھا ہے کہ اس الہام کے بعد کوئی نکاح نہ ہوا۔یہ درست ہے اس اشتہار میں حضرت اقدس نے محمدی بیگم کے نکاح کی پیشگوئی درج کی ہے اور فقرہ ”بعض کو اس کے بعد پائے گا میں محمدی بیگم کی طرف ہی اشارہ ہے۔لیکن جیسا کہ ہم محمدی بیگم والی پیشگوئی کے ماتحت مفصل بحث کریں گے انشاء اللہ۔(دیکھو فصل دہم) یہ نکاح بعض شرائط کے ساتھ وابستہ تھا اگر چہ اس شرط کا حضرت کے اس فقرہ میں ذکر نہیں مگر آپ نے خود تحریر فرما دیا ہے مَا كَانَ الْهَامُ فِي هذه المقدَّمَةِ إِلَّا كَانَ مَعَهُ شَرط كَمَا قرءتُ عَلَيكَ فِي التَذْكِرَةِ السَّابِقَةِ - (انجام آتھم صفحہ ۲۲۳) کہ اس پیشگوئی کے ہر حصے میں شرط ہے۔پس حضرت ام المؤمنین صاحبہ (سیدہ نصرت جہان بیگم ) کے بعد محمدی بیگم کا آپ کے نکاح میں آنا داماد احمد بیگ کی ہلاکت کے ساتھ 129