تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 127 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 127

جاویں۔“ ( الہامات مرزا صفحہ ۱۱۸) مگر شیر قالین شیر نیستاں کے مقابلہ میں کہاں آسکتا تھا۔جَاءَ الْحَقُ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا - مکہ یا مدینہ میں مرنے کے الہام پر اعتراض کا جواب (۲) ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں۔معترض اس الہام کو حوالہ میگزین ۱۴ / جنوری 194 ء درج کر کے لکھتا ہے : یہ الہام بھی سراسر غلط ثابت ہوا۔مرزا صاحب کو مکہ مکرمہ اور مدینہ طیبہ کی ہوا بھی نصیب نہ ہوئی۔“ (عشره صفحه ۴۱) الجواب - حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس الہام کی تشریح اسی جگہ حسب ذیل فرمائی ہے کہ اس کے ایک معنی یہ ہیں کہ ہمیں قبل از موت ملی فتح نصیب ہوگی جو دشمنوں کو قہر کے ساتھ مغلوب کیا گیا تھا۔اسی طرح دشمن قہری نشانوں سے مغلوب کئے جاویں گے۔دوسرے معنے یہ ہیں کہ ہم کو قبل از مدنی فتح نصیب ہوگی کہ خود بخودلوگوں کے دل ہماری طرف مائل ہو جاویں گے۔“ میگزین بابت جنوری ۱۹۰۶ ء الهام ۱۴ جنوری ۱۹۰۹ء) خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کو وفات سے قبل اس قدر قبولیت عطا فرمائی جو دنیا میں بے نظیر قبولیت تھی۔ہر رنگ کی مخالفت کے باوجود یہ قبولیت بجز انبیاء کے ناممکن ہے۔نعم ما قال ے میں تھا غریب و بے کس و گمنام و بے بینر کوئی نہ جانتا تھا کہ ہے قادیاں کدھر لوگوں کی اس طرف کو ذرا بھی نظر نہ تھی میرے وجود کی بھی کسی کو خبر نہ تھی اب دیکھتے ہو کیسا رجوع جہاں ہوا اک مرجع خواص یہی قادیاں ہوا (نصرت الحق صفحہ 11) ناظرین! جب حضرت اقدس نے مندرجہ بالا الہام کی خود تشریح فرمائی اور اُسی جگہ فرمائی جہاں سے معترض نے الہام نقل کیا ہے۔تو پھر اس کو چھوڑ کر اعتراض کرنا کیا انصاف کا خون کرنا نہیں؟ افسوس معترض خود خیانت کی راہ سے تفسیر القول بما لا يرضى به قائله 127