تفہیماتِ ربانیّہ — Page 98
إِنَّهَا لَمَّا نَزَلَتْ قَالَ لَمْ أَعْلَمُ مَا هِيَ أَيْ مَا الْوَاقِعَةُ الَّتِي يَكُونُ فِيْهَا ذَالِكَ فَلَمَّا كَانَ يَوْمَ بَدْرٍ وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى " اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْبَسُ الرُعَ وَيَقُولُ سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ فَعَلِمْتُهُ “ بیضاوی زیر آیت ہذہ ) کہ جب ملی آیت سَيُهْزَهُ الْجَمْعُ نازل ہوئی تو میں نہ سمجھ سکا کہ وہ کونسا واقعہ ہوگا جب یہ پوری ہوگی۔پھر جب جنگ بدر کا دن آیا اور رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو زرہ پہنتے اور یہ آیت تلاوت کرتے سنا تو مجھے صحیح علم ہوا۔بات یہ ہے کہ ملکی زندگی میں ان فتوحات کا تصور انسانی فہم سے بالا تھا۔دیکھئے قرآن مجید میں بہشت کی نعماء کا مفصل تذکرہ ہے مگر خودسرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ وہ مَا لا عَيْن رَأْتُ وَلَا أُذُنْ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ (بخاری کتاب التفسير سورة السجدہ) کا مصداق ہیں۔یعنی وہ ایسی ہیں جو نہ آنکھوں نے دیکھیں، نہ کانوں نے سنیں، اور نہ اُن کا تصور ہی کسی دل کو ہوا۔سچ ہے ع كل امر مرهون باوقاته - پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر اس لحاظ سے بھی کوئی اعتراض نہیں پڑتا کہ آپ نے وفات مسیح کافی الفور کیوں اعلان نہ فرمایا بلکہ حضور کا محتاط طرز عمل اپنی ذات میں آپ کی صداقت کا ایک گونہ شاہد ہے۔الہامات پر اعتراضات کے جواب اب ہم اُن اعتراضات کو لیتے ہیں جو مصنف نے اس فصل میں ذکر کئے ہیں اور نمبر واران کے جواب لکھتے ہیں۔وباللہ التوفیق۔(۱) حضرت مسیح موعود کی عمر کے متعلق اعتراض کا جواب معترض نے حضرت مسیح موعود کے الہامات اور حضور کی تشریحات کو ذکر کر کے لکھا ہے :- ان سب کا خلاصہ یہ ہے کہ مرزا صاحب کی عمر بقول ان کے کم از کم ۷۴ سال 98