تفہیماتِ ربانیّہ — Page 97
وثوق حضور کی صداقت پر زبر دست گواہ ہے۔پس ابن صیا داور آپ میں کھلا کھلا فرق ہے۔ع ضِدَّانِ مُفْتَرِقَانِ أَيَّ تَفَرُّقٍ وفات مسیح کے الہامات اس جگہ یہ بتادینا بھی ضروری ہے کہ معترض پٹیالوی نے حمامۃ البشریٰ صفحہ ۷۶ کے حوالہ سے لکھا ہے کہ مرزا صاحب نے وفات مسیح اور اپنی مسیحیت کے الہامات کو دس سال تک ملتوی رکھا بلکہ رڈ کر دیا۔“ (حاشیہ صفحہ ۳۵ عشره) یہ الفاظ حمامتہ البشرکی صفحہ 4ے میں موجود نہیں ہیں۔پس یہ تو معترض کی دروغ باقی ہے لیکن یہ بات بلا شبہ درست ہے کہ حضرت اقدس ایک عرصہ تک حضرت مسیح کو زندہ مانتے رہے۔مگر یہ تو خود اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت نے اپنے دعوی مسیحیت میں منصوبہ بازی نہیں کی۔باقی اس سے یہ استدلال کہ الہامات کو رد کر دیا یا ان میں ” شک کیا“ سراسر باطل اور جھوٹ ہے۔حضرت کو کبھی کسی الہام کے بارہ میں نہ بھی شک ہوا نہ حضور نے کسی الہام کو رڈ کیا۔ہاں دعوی مسیحیت اور وفات مسیح کے الہامات کے متعلق صرف اس قدر رقم فرمایا ہے ثُمَّ مَا اسْتَعْجَلْتُ في امري هذَا بَلْ أَخَّرْتُهُ إِلى عَشَرِ سَنَةٍ بَلْ زِدُتُ عَلَيْهَا وَكُنْتُ لِحُكْمٍ وَاضِحِ وَامْرٍ صَرِيحٍ مِنَ الْمُنْتَظِرِينَ - یعنی میں نے دعوے میں جلد بازی سے کام نہیں لیا بلکہ اللہ کے واضح حکم کا منتظر رہا۔( حمامۃ البشری صفحہ ۱۳) غرض آپ کے سب الہامات خدا کی جانب سے ہونے میں قطعی اور یقینی تھے ہاں اُن کے اسرار و غوامض کی تفہیم حسب سنتِ الہیہ اپنے اپنے وقت پر ہوتی رہی جیسا کہ تمام انبیاء اور اُن کے متبعین کو ہوتی رہی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روبرو حضرت عمرؓ قسم کھاتے ہیں کہ ابن صتیا د ہی دجال ہے۔مگر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں :- إنْ يَكُنْ هُوَ لَا تُسَلَّطُ عَلَيْهِ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ هُوَ فَلَا خَيْرَ لَكَ فِي قتله - (مشکوۃ باب قصة ابن صیاد ) کہ اگر یہ دجال ہے تو تم اس پر مسلط نہیں ہو سکتے۔اور اگر یہ دجال نہیں تو اس کے قتل کرنے کا فائدہ کیا ؟ پھر سید نا حضرت عمر آیت سَيُهْزَهُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ النُّبُر کے متعلق کہتے ہیں :- 97