تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 99 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 99

اور زیادہ سے زیادہ ۸۶ سال کی ہونی چاہئے تھی۔مرزا صاحب ۱۳۳۶ ھ میں ۶۵ سال اور چند ماہ کی عمر میں فوت ہو گئے۔“ (عشرہ صفحہ ۳۶) ہمیں اس ” خلاصہ“ سے اتفاق ہے۔مگر معترض کی یہ بات غلط ہے کہ حضرت اقدس کی عمر ۶۵ سال اور کچھ مہینے ہوئی ہے۔حضرت مسیح موعود کی تحریرات، مخالفین کی گواہیاں اور واقعات اس کی تکذیب کر رہے ہیں۔معترض نے اپنے دعوے کی تائید میں دو حوالے پیش کئے ہیں۔پہلے ہم ان کا جواب تحریر کرتے ہیں۔معترض کا پیش کردہ پہلا حوالہ معترض نے تریاق القلوب صفحہ ۶۸ سے یہ عبارت نقل کی ہے۔” جب میری عمر ۴۰ برس تک پہنچی تو خدا تعالیٰ نے اپنے الہام اور کلام سے مجھے مشرف کیا۔اور یہ عجیب اتفاق ہے کہ میری عمر ۴۰ برس پورے ہونے پر صدی کا سر بھی آپہنچا۔تب خدا تعالیٰ نے الہام کے ذریعہ سے مجھ پر ظاہر کیا کہ تو اس صدی کا محمد داور صلیبی فتنوں کا چارہ گر ہے۔“ اور پھر لکھا :- پس جب حسب اقرار خود چودھویں صدی کے شروع میں آپ پورے ۴۰ سال کے تھے تو بوقت انتقال ماہ ربیع الثانی ۱۳۲۶ چھ میں ۶۵ سال ۴ ماہ کے ہوئے۔“ (عشرہ صفحہ ۳۹) الجواب۔مندرجہ بالا حوالہ سے ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام چالیس برس کی عمر میں مامور ہوئے۔اور وہ وقت صدی کے سر کے پہنچنے کا وقت تھا۔بات بالکل واضح ہے اب صرف صدی کے سر کا تعین کرنا چاہئے کہ اس سے کونسا سال مراد ہے۔حضرت مسیح موعود تحریر فرماتے ہیں :۔یہ عجیب امر ہے اور میں اس کو خدا تعالیٰ کا ایک نشان سمجھتا ہوں کہ ٹھیک بارہ سونو سے ہجری میں خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ عاجز شرف مکالمہ ومخاطبہ پاچکا تھا۔“ (حقیقة الوحی صفحہ ۱۹۹) اس عبارت سے متعین ہو گیا کہ صدی کے سر سے مراد ۱۲۹۰ هجری ہے۔اس جگہ اگر یہ سوال ہو کہ کیا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات میں صدی کے سر“ کی بین تشریح موجود ہے تو اس کے جواب میں مندرجہ ذیل حوالہ کافی ہے۔حضور تحریر فرماتے ہیں :۔99 99