تفہیماتِ ربانیّہ — Page 625
ناظرین اظاہر ہے کہ اس قسم کے انتہائی مواعید کا ظہور تدریجا ہوا کرتا ہے اور پیشگوئی کا صدق بلحاظ انجام ظاہر ہوا کرتا ہے۔قرآن مجید کی آیت أَفَلَا يَرَوْنَ أَنَا نَأْتِي الْأَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا أَفَهُمُ الْغَلِبُونَ (الانبياء ركوع (۴) بھی تدریجی غلبہ کی شہادت دے رہی ہے۔ہمارے حضرت نے بھی تحریر فرمایا ہے :- وو " خدا تعالیٰ مجھے یوسف قرار دے کر یہ اشارہ فرماتا ہے کہ اس جگہ بھی میں ایسا ہی کروں گا۔اسلام اور غیر اسلام میں رُوحانی غذا کا قحط ڈال دوں گا ، اور رُوحانی زندگی کے ڈھونڈھنے والے بجز اس سلسلہ کے کسی جگہ آرام نہ پائیں گے، اور ہر فرقہ سے آسمانی برکتیں چھین لی جائیں گی۔اور اس بندہ درگاہ پر جو بول رہا ہے، ہر ایک نشان کا انعام ہوگا۔پس وہ لوگ جو اس رُوحانی موت سے بچنا چاہیں گے ، وہ اسی بندہ حضرت عالی کی طرف رجوع کریں گے۔(نصرة الحق صفحہ ۷۹،۷۸) الجواب۔مندرجہ بالا اقتباس میں حضرت نے فرمایا کہ اگر کچھ نہ ہوا، اور مر گیا، تو سب گواہ رہیں کہ میں جھوٹا ہوں۔اس سے بھی ظاہر ہے کہ حضرت کی زندگی میں اس کام کی تکمیل مقدر نہ تھی بلکہ کچھ ہونا مقدر تھا۔چنانچہ دنیا گواہ ہے کہ حضرت اقدس نے عیسائیت کے خلاف کس قدر لٹریچر چھوڑا ہے، اور کس طرح سے صلیبی ستون کو ریزہ ریزہ کر دیا ہے۔نشانات مجزات ، اور معقولات کے ساتھ عیسائیوں کو ساکت کر دیا، حتی کہ آج غیر احمدی علماء اور مناظر بھی اس چشمہ سے حاصل کر کے نصاریٰ کا مقابلہ کرتے ، اور اسی مقدس انسان کے دلائل کے شرمندہ احسان ہیں۔افسوس اُن پر جو شرف نگاہی سے کام نہ لیں۔اور خواہ مخواہ اعتراض کر دیں۔جاؤ کسی پادری سے کہو کہ احمدیوں کے ساتھ بحث کرو تو اول تو وہ صاف انکار کر دے گا ، اگر وہ صاف انکار نہ بھی کرے، توحیل و محبت سے ضرور کام لے گا۔یہ میرا ذاتی تجربہ بھی ہے۔الغرض حضرت اقدس کے اس اقتباس پر لے طبع ثانی (۱۹۶۴) سے دو سال قبل سے میں، سلسلہ احمدیہ کا ایک ادنی غلام، ماہنامہ الفرقان میں پاکستان و ہندوستان کے جملہ پادریوں کو حضرت مسیح کی صلیبی موت کے بارے میں تحریری مناظرہ کے لئے مسلسل چیلنج دے رہا ہوں مگر کسی پادری کو اسے قبول کرنے کی ہمت نہیں ہو رہی۔کیا یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے گاسر الصليب ہونے کا واضح ثبوت نہیں۔تفصیل کے لئے الفرقان دسمبر ۷۳ ، وجون ۶۴ ، ملاحظہ فرمائیں۔(مؤلف) (625)