تفہیماتِ ربانیّہ — Page 626
کسی رنگ سے بھی کوئی اعتراض پیدا نہیں ہوتا۔وھو المطلوب۔دعوای نبوت اس آٹھویں نمبر پر پٹیالوی صاحب نے پھر وہی بات پیش کر دی ہے کہ حضرت نے پہلے دعوی نبوت کو کفر قرار دیا۔اور پھر خود دعوی کر دیا۔ہم اس کا جواب گزشتہ فصول میں مفصل لکھ آئے ہیں۔یعنی حضرت نے شریعت والی نبوت کا دعوئی ، جو قرآن کو منسوخ کرے، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کلمہ کو بیکار کر دے، کفر قرار دیا ہے۔حضرت نے اخیر دم تک اس قسم کا کوئی دعوی نہیں فرمایا۔ہاں غیر تشریعی نبوت کا دعوی ہے، جسے ظلی نبوت قرار دیا ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں حاصل ہوتی ہے، اس کو آپ نے کبھی گفر قرار نہیں دیا۔کیونکہ وہ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی علو مرتبت کی دلیل ہے۔فلا اعتراض۔ڈاکٹر عبد الحکیم سے متعلق پیش گوئی نویں نمبر پر معترض پٹیالوی نے ڈاکٹر عبدالحکیم مرتد کے متعلق پیشگوئی کا ذکر کیا ہے۔نیز اس کی پیشگوئی دربارہ حضرت اقدس کو بھی ذکر کیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ڈاکٹر عبد الحکیم کے متعلق تحریر فرمایا ہے :- "خدا کے مقبولوں میں قبولیت کے نمونے اور علامتیں ہوتی ہیں۔اور وہ سلامتی کے شہزادے کہلاتے ہیں، اُن پر کوئی غالب نہیں آسکتا۔فرشتوں کی کھینچی ہوئی تلوار تیرے آگے ہے۔پر ٹو نے وقت کو نہ پہچانا نہ دیکھا نہ جانا۔رَبِّ فَرِّقُ بَيْنَ صَادِقِ وَكَاذِبِ أَنْتَ تَرَى كُلَّ مُصْلِحٍ وَصَادِقٍ - (عشره صفحه ۱۶۳) یہ پیشگوئی حرف بحرف پوری ہوئی۔دنیا کو خوب معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کا مقبول کون ثابت ہوا۔اور کس کو قبولیت حاصل ہوئی اور ہو رہی ہے۔عبدالحکیم کا الہام تھا إِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِين - سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر بھی رسالت کے الہام نازل ہوئے تھے۔اب بتاؤ کس کی رسالت مانی گی، اور کس کو رسول تسلیم کیا گیا۔اور کون راندہ درگاہ ہو گیا ؟ کیا عبد الحکیم پٹیالوی کو رسول ماننے والا ایک فرد بھی روئے زمین پر موجود ہے؟ ہرگز نہیں۔مگر سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ماننے والے دُنیا کے تمام ممالک میں (626)