تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 500 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 500

(ج) ہم یہ بتا چکے ہیں کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے آگاہ فرمایا ہے کہ ایک زمانہ میں قرآن مجید اُٹھ جائے گا یعنی اس کا مغز اور اس پر عمل مفقود ہو جائے گا۔اب یہ بھی ملاحظہ فرما لیجئے کہ آیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ پیشگوئی پوری ہو چکی ہے یا نہیں ؟ بغرض اختصار صرف دو حوالجات پیش ہیں۔اول۔مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری شائع کرتے ہیں : سچی بات یہ ہے کہ ہم میں سے قرآن مجید بالکل اُٹھ چکا ہے فرضی طور پر ہم قرآن مجید پر ایمان رکھتے ہیں مگر تو اللہ دل سے اسے معمولی اور بہت معمولی اور بیکار کتاب جانتے ہیں۔(اخبار اہلحدیث ۱۴ رجون ۱۹۱۲ صفحه ۶) دوم - نواب صدیق حسن خان صاحب لکھتے ہیں -: اپ اسلام کا صرف نام، قرآن کا فقط ش باقی رہ گیا ہے مسجد میں ظاہر میں تو آباد ہیں لیکن ہدایت سے بالکل ویران ہیں۔علماء اس امت کے بدتر ان کے ہیں جو نیچے آسمان کے ہیں۔انہیں سے فتنے نکلتے ہیں انہیں کے اندر پھر کر جاتے ہیں۔“ ( اقتراب الساعۃ صفحہ ۱۲) ہر دو اقتباس زمانہ کی حالت اور قرآن مجید کے اُٹھ جانے کا کھلا نقشہ پیش کرتے ہیں۔کیا ان حالات کے بعد بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا بروقت مبعوث ہونا آپ کے دعوی کی زبردست دلیل نہیں ؟ بتاؤ اگر اُمت کے امراض اور اس کی کمزوریوں کے لئے حضرت احمد نبی اللہ مسیحا نہیں تو اور کون ہے؟ (3) نادان معترض حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حفاظت قرآن کے لئے کھڑے ہونے کو آیت إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا اللہ کر کے مخالف بتاتے ہیں۔حالانکہ آپ کی بعثت تو خود اس وعدہ الہی کا نتیجہ تھی۔جب مخالفین اسلام بلکہ بعض مسلمان ا۔وہ مولوی جو بدذات فرقہ مولویاں پر شور مچایا کرتے ہیں ان الفاظ کو آنکھیں کھول کر پڑھیں۔(ابو العطاء) (500