تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 499 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 499

مقرر تھا حضور نے خود تحریر فرمایا ہے :- " خدا تعالیٰ نے مجھ کو اِس زمانہ کی اصلاح کے لئے بھیجا ہے تا وہ غلطیاں جو بجز خدا تعالیٰ کی خاص تائید کے نکل نہیں سکتی تھیں وہ مسلمانوں کے خیالات سے نکالی جائیں اور منکرین کو بچے اور زندہ خدا کا ثبوت دیا جائے۔“ ( برکات الدعا صفحہ ۱۹) (ب) یہ درست ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ قرآن مجید زمین پر سے اُٹھ گیا تھا اور میں اُسے لایا ہوں لیکن اس میں اعتراض کی کیا بات ہے۔کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف طور پر نہیں فرما دیا تھا کہ : يَأتى عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لَا يَبْقَى مِنَ الْإِسْلَامِ إِلَّا اسْمُهُ وَلَا مِنَ الْقُرْآنِ إِلَّا رَسْمة - الحديث (مشكوة كتاب العلم) کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا جب اسلام کا فقط نام باقی رہ جائے گا ، اور قرآن مجید اُٹھ جائے گا، اس کے صرف الفاظ رہ جائیں گے۔“ پھر دوسری روایت ہے :- لَوْ كَانَ الْإِيْمَانَ عِنْدَ الثَّرَيَّا لَنَالَهُ رَجُلٌ مِنْ هَؤُلَاءِ - ( بخاری کتاب التفسير ) یعنی ایک فارسی الاصل انسان ایسا ہو گا کہ اگر ایمان ثریا پر بھی جا چکا ہوگا تو وہ اسے واپس لے آئے گا۔گویا یہ بتایا ہے کہ ایمان ، اسلام اور قرآن مجید کو آخری زمانہ میں واپس لانے والا، اس کی تعلیمات کو از سر نو تازہ کرنے والا ، دینِ اسلام کی تجدید کرنے والا ایک مرد فارسی الاصل ہوگا۔پھر بعض احادیث صحاح میں اس موعود کا خلیہ گندمی رنگ سیدھے بال قرار دیا ہے۔نِعْمَ مَا قَالَ الْمَسِيحُ الْمَوْعُوْدُ رنگم چو گندم است و بمو فرق بین است زان سا که آمد است در اخبار سرورم (در ثمین فارسی ) اور (499