تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 411 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 411

دعویٰ کیا ہے کہ نعوذ باللہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا معجزہ استجابت دعا غلط ہے۔تفصیلی بحث سے قبل اجمالاً مسئلہ دعا کے متعلق کچھ لکھنا ضروری ہے۔تا ہر قسم کی غلط نہی دور ہو جائے۔دعا کیا چیز ہے؟ بندہ عاجزانہ حالت میں اپنی ضروریات اور حاجات کو بدرگاہ رب العالمین پیش کرتا ہے۔اپنی کمزوری، بے بسی اور بے بضاعتی کا اعتراف کرتا ہے۔نہایت رقت آمیز اور جاذب کلمات کے ساتھ خداوند کے رحم کو جوش میں لاتا ہے۔درد بھرے دل کے ساتھ قضاء حوائج کے لئے ملتجی ہوتا ہے ارحم الراحمین اپنے بندہ کی دُعا کو سنتا ہے اور اپنی شانِ الوہیت کے شایان اس کو قبول کرتا ہے۔پس دُعا کیا ہے؟ ایک بندہ کی عجز و نیاز اور فروتنی کا مظاہرہ اور امدادخداوندی کے لئے بیقرار التجا کا نام ہے۔اللہ تعالیٰ اپنی شان جبروت و کبریائی کے مناسب اس کو قبول یا ر ڈ فرماتا ہے۔دُعا کی منظوری اور مقابلہ بندہ کا یہ حق نہیں کہ کہے کہ میری ہر دعا منظور ہونی چاہئے یا فلاں دعا کیوں منظور نہیں ہوئی رموز مملکت را خسرواں دانند۔بطور حق کے کسی بھی انسان کی دعا کی منظوری ضروری نہیں۔خداوند مالک ہے اور بندے ناچیز مخلوق۔اس کی شانِ قہاریت اور سطوت کے آگے کسی کو دم مارنے کی جگہ نہیں لیکن اس کے رحم نے تقاضا کیا کہ اس کے پیاروں کو خاص نشان دیا جائے۔چنانچہ اس کی قدیم سے یہی سنت رہی ہے کہ جب دشمن اس کے مقبولوں کو مردود اور مخذول ثابت کرنے کے لئے بذریعہ دعا ان کا مقابلہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ ضرور اپنے مقبولوں کی سنتا ہے۔مباہلہ کی صورت میں وہ ہمیشہ صادق کی نداء پر غیر معمولی خوارق ظاہر فرماتا ہے۔جیسا کہ آیت فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَ ابْنَاءَ كُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَ كُمْ وَانْفُسَنَا وَأَنْفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَتَجْعَل لَّعْنَتَ اللهِ عَلَى الْكَذبين ) ( آل عمران رکوع ۶) سے واضح ہے۔حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عام دشمن آپ کے بعد بھی جیتے رہے۔مگر 411