تفہیماتِ ربانیّہ — Page 410
بتادیا تھا کہ سچی آواز تھی اور وہ منادی یقینا راستباز تھا جس نے فرمایا تھا۔و اللہ ہمچو کشتی نوحم کردگار بے قسمت آنکه دور بماند ز لنگرم آؤ میں اس سے بھی عجیب تر ما جر ائناؤں۔سُنو وہ مقدس انسان جہاں اپنی بستی کے طاعون جارف سے بچاؤ کا اعلان کرتا ہے وہاں پر نہایت ہی پر جلال اور شوکت سے بھرے ہوئے الفاظ میں لکھتا ہے :- " میرا یہی نشان ہے کہ ہر ایک مخالف خواہ وہ امروہہ میں رہتا ہے اور خواہ امرتسر میں اور خواہ دہلی میں اور خواہ کلکتہ میں اور خواہ لاہور میں ، خواہ گولڑہ میں اور خواہ بٹالہ میں۔اگر وہ قسم کھا کر کہے گا کہ اس کا فلاں مقام طاعون سے پاک رہے گا تو ضرور وہ مقام طاعون میں گرفتار ہو جائے گا۔کیونکہ اس نے خدا تعالیٰ کے مقابل پر گستاخی کی۔( دافع البلاء صفحہ ۱۸) کیا کوئی اس کے مقابل پر کھڑا ہوا؟ کیا کسی کو تاب مقاومت ہوئی ؟ نہیں اور ہر گز نہیں۔اے انصاف کے دلدادہ لوگو اور حق پرستی کے دعویدارو! خدا کے واسطے غور کرو کیا یہ کذابوں کے حالات ہوا کرتے ہیں؟ کیا مفتری اسی ہیبت اور جلال کے مجسمہ ہوتے ہیں؟ کیا ان کی باتیں اسی طرح پوری ہوا کرتی ہیں؟ بھائیو ! تم دن اور رات میں فرق کرنا جانتے ہو کا ذب اور صادق مشابہ نہیں ہو سکتے۔طاعون کا نشان ایک گھلا گھلا نشان ہے قیامت کے دن پہلی امتیں تم کو ملزم کریں گی کیونکہ تم نے وہ نشانات دیکھے کہ اگر وہ اُن کے زمانہ میں ہوتے تو وہ ہلاک نہ ہوتیں۔طاعون ہر رنگ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا زبردست نشان ہے۔اے کاش ہمارے مخالف بصیرت سے کام لیں۔خوب فرمایا۔✓ تو نے طاعوں کو بھی بھیجا میری نصرت کیلئے تا وہ پورے ہوں نشاں جو ہیں سچائی کا مدار (درثمین) اس ضمنی اعتراض اور غلط بیانی کا جواب دینے کے بعد ہم اس فصل کے اصلی اعتراضات کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔معترض نے بخیالِ خویش چند دعاؤں کا ذکر کیا ہے اور پھر (410)