تفہیماتِ ربانیّہ — Page 373
کرتے رہے۔“ (رسالہ پیغام صلح صفحہ ۱۵) آه! افسوس کہ آج دلائل کے میدان میں معاندین تنگ آکر افتراء پردازی پر اتر آئے۔اور جھوٹے الزام لگانے شروع کر دیئے۔کیا دنیا کا ایک بھی عظمند جس نے حضرت کی کتب کا سرسری مطالعہ بھی کیا ہو اس اعتراض کی تائید کر سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔حضرت نے اپنی زندگی اور بعثت کا مقصد بایں الفاظ ذکر فرمایا ہے۔جانم فداشود بره دینِ مصطفے این است کام دل اگر آید میترم پس یہ اعتراض احمدیت کی روح اور احمد یہ لٹریچر کے مغز کے ہی خلاف ہے۔ایسا معترض یا تو بالکل غمی ہوگا یا پھر شریر انفس۔ہم کہتے ہیں کہ یہ تو بالکل سچ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر پیشگوئی پوری ہوئی ہے اور جو آئندہ سے متعلق ہیں ضرور پوری ہوں گی۔مگر یہ غلط ہے کہ ہمارے مخالفین کا بھی یہی اعتقاد ہے۔دیکھو صحاح ستہ میں ابوداؤد کی روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا إِنَّ اللهَ يَبْعَثُ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ عَلَى رَأْسِ كُلِّ مَائَةِ سَنَةٍ مَنْ يُجَدِّدُ لَهَا دِينَهَا۔(مشکوۃ المصانع ) کہ ہر صدی کے سر پر اللہ تعالیٰ مجد دکو مبعوث کیا کرے گا یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی ہے اور تمہارے الفاظ کے مطابق ” بقید وقت ہے۔مگر بتاؤ کہ کیا اس چودھویں صدی میں سے باوجود نصف صدی گزرنے کے تمہارے نزدیک یہ پیشگوئی پوری ہوئی اور کوئی ایسا مجد دکھڑا ہوا جس نے دعوی کیا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے مبعوث فرمایا ہے؟ ہاں صرف حضرت مرزا غلام احمد صاحب علیہ السلام نے ایسا دعوی کیا مگر ان کو تم نے اپنی بدقسمتی سے رد کر دیا اور دوسرے مبعوث من اللہ مجد دکو پیش نہیں کر سکتے۔پس تمہارے یہ کھانے اور دکھانے کے دانت علیحدہ علیحدہ ہیں۔ھاتو ابرھانکم ان کنتم صادقین۔صلح حدیبیہ پر اعتراض؟ معترض نے جس عبارت کو نقل کر کے حضرت اقدس پر الزام لگایا ہے اس میں اس کا جواب بھی موجود ہے کیونکہ وہاں پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ تحریر فرمایا ہے کہ واقعہ حدیبیہ کو بطور اعتراض پیش ا اب طبع دوم کے وقت ۸۴ برس گزرنے کے باوجود کوئی اور مدعی مجددیت پیش نہیں کیا جا سکا؟ (المؤلف) (373)