تفہیماتِ ربانیّہ — Page 372
(۸) رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت مسیح موعود کا مشق اس نمبر میں معترض پٹیالوی نے تحفہ گولڑویہ کے فقرات ذیل درج کئے ہیں :- اس کی مثال ایسی ہے کہ مثلاً کوئی شریر النفس ان تین ہزار معجزات کا کبھی ذکر نہ کرے۔جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ظہور میں آئے۔اور حدیبیہ کی پیشگوئی کو بار بارذکر کرے کہ وقت اندازہ کردہ پر پوری نہ ہوئی۔(عشرہ کامله صفحه ۸۳) اور پھر لکھا ہے کہ :- عبارت زیر خط حضرت رسالتمآب صلی اللہ علیہ وسلم پر ایسا گل کھلا حملہ اور ناپاک الزام ہے جو قادیانی نبی کا ذب کے منہ سے ہی نکل سکتا ہے ورنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی پیشگوئی بقید وقت نہیں فرمائی جو اپنے وقت پر پوری نہ ہوئی ہو۔“ (عشره صفحه ۸۳) الجواب - معترض پٹیالوی نے عوام الناس کو دھوکہ دینے کے لئے یہ لکھ دیا ہے کہ حضرت مرزا صاحب نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کیا ہے۔ورنہ اس کی ضمیر بھی اس کو ملامت کرتی ہوگی۔آہ اتنا جھوٹ اور ایسی مغالطہ دہی اور پھر مذہب کے نام پر؟ اے زمین تو کیوں شق نہ ہو گئی۔اسے قلم تو کیوں نہ ٹوٹ گیا۔حضرت مرزا صاحب جیسا عاشق رسول اور ان پر یہ نا پاک الزام ؟ ع ضِدَّانِ مُفْتَرِقَانِ أَيَّ تَفَرُّقٍ۔حضرت مرزا صاحب تو فرماتے ہیں۔بعد از خدا بعشق محمد محرم * گر کفر این بود بخدا سخت کا فرم پھر آپ نے ہی تحریر فرمایا ہے کہ :- دو میں سچ سچ کہتا ہوں کہ ہم شورہ زمین کے سانپوں اور بیابانوں کے بھیڑیوں سے صلح کر سکتے ہیں لیکن ان لوگوں سے ہم صلح نہیں کر سکتے جو ہمارے پیارے نبی پر ، جو ہمیں اپنی جان اور ماں باپ سے بھی پیارا ہے ، ناپاک حملے (372)