تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 374 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 374

کرنا شریر النفس کا کام ہے کیونکہ در حقیقت اس پیشگوئی پر کوئی اعتراض پیدا ہی نہیں ہوتا۔پس معترض پٹیالوی کے اس ناپاک افتراء کا ایک جواب تو حضرت کی عبارت میں ہی موجود ہے اور وہ یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس پیشگوئی کو پوری اور درست مانتے ہیں بلکہ اعتراض کرنے والے کو شریر النفس کہتے ہیں۔واقعہ حدیبیہ ۱۴۰۰ اس جگہ مختصر اواقعہ حدیبیہ کا ذکر ضروری ہے۔قریباً 1ھ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رؤیا دیکھا کہ ہم مکہ میں بیت اللہ کا طواف کر رہے ہیں۔چنانچہ حضور چودہ سو صحابہ کولیکر بعزم عمرہ جانب مکہ روانہ ہو پڑے۔راستہ میں حدیبیہ مقام پر آپ کو رکنا پڑا۔کفار سے گفت و شنید کے بعد چند شرائط پر صلح قرار پائی۔وہ شرائط بظاہر نہایت دب کر مانی گئی تھیں لیکن حقیقتا مشیت الہی ہی ایسی تھی۔آپ اس سال بغیر عمرہ کئے حدیبیہ سے ہی واپس مدینہ لوٹ آئے۔اس پر راستہ میں الہام ہوا إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحاً مبينا - اللہ تعالیٰ نے اس کو فتح قرار دیا اور آخر صلح حدیبیہ کا ہی نتیجہ یہ ہوا کہ بہت جلد مکہ فتح ہو گیا۔حدیبیہ کے واقعہ پر بہت سے صحابہ میں قلق و اضطراب پیدا ہو گیا۔حضرت عمر ” تو جا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اصرار کرنے لگ گئے اور پھر اسی حالت میں حضرت ابوبکر سے جا کر طالب جواب ہوئے اور خود فرماتے ہیں واللہ ما شَكَكْتُ مُنْذُ أَسْلَمْتُ إِلَّا يَومَئِذٍ بخدا مجھے اسلام لانے کے بعد کسی پیشگوئی کے بارے میں کبھی شک نہیں ہوا بجز اس دن کے۔(زادالمعادجلد ۱ صفحه ۳۷۶) بہر حال سارا قافلہ بغیر عمرہ کئے مدینہ واپس ہوا۔امام ابن القیم اس " واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں :- حَقِيقَةُ الْأَمْرِ آنَ الْفَتْحَ فِي اللُّغَةِ فَتْحُ الْمُخْلَقِ وَالصُّلْحُ الَّذِى حَصَلَ مَعَ الْمُشْرِكِيْنَ بِالْحُدَيْبِيَّةِ كَانَ مَسْعُوداً مُغْلَقًا حَتَّى فَتَحَهُ اللهُ وَكَانَ مِنْ أَسْبَاب فَتْحِهِ صَدَّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ عَنِ الْبَيْتِ وَكَانَ فِى الصُّورَةِ الظَّاهِرَةِ ضَيْمًا وَهَضْمًا لِلْمُسْلِمِينَ - الم -1- کہ دراصل فتح کسی بند چیز کے کھولنے کو کہتے ہیں۔حدیبیہ میں جو صلح ہوئی وہ (374)