تفہیماتِ ربانیّہ — Page 367
جلد ۲ کا حوالہ دیا ہے۔ناقل ) پھر کس طرح جھوٹ کہے جاتے ہیں کہ پیشگوئی میں شرط نہیں تھی۔‘ (عشرہ صفحہ ۸۱-۸۲) الجواب۔اس عبارت میں اوّل تو معترض نے یہ دھوکہ دیا ہے کہ حضرت اقدس علیہ السلام کہتے ہیں کہ یونٹ کی پیشگوئی میں کوئی شرط نہ تھی حالانکہ او پر تمہ حقیقت الوحی کی جوعبارت اس نے نقل کی ہے اس میں یہ الفاظ ہیں۔حالانکہ اس میں کسی شرط کی تصریح تھی۔مطلق شرط کا نہ ہونا ( لفظا ومراداً) اور بات ہے۔اور اس کی تصریح کا نہ ہونا امر دیگر۔حضرت اقدسن نے تصریح یا لفظی ذکر و اظہار کا انکار فرمایا ہے۔ورنہ حضور تو اس وعیدی پیشگوئی کو بھی مشروط بالشرط ہی مانتے ہیں۔کیونکہ حضور نے تحریر فرمایا ہے :- ” خدا اور رسول اور پہلی کتابوں کی شہادتوں کی نظیریں موجود ہیں کہ وعید کی پیشگوئی میں گو بظاہر کوئی بھی شرط نہ ہو تب بھی بوجہ خوف تاخیر ڈال دی جاتی ہے۔“ ( انجام آتھم صفحہ ۳۲ حاشیہ ) پس اول تو معترض پیٹیالوی نے یہ دھوکا دیا ہے۔دوم پہلے مطلق پیشگوئی کا انکار تھا مگر اب بعض روایتوں سے پیشگوئی کا حال معلوم ہونے لگ گیا ہے۔لیکن مشہور ضرب المثل کے مطابق نیش کثر دم کی طرح اب بھی ٹیڑھے ہی رہے۔کس ادا سے لکھتے ہیں کہ ” شیخ زادہ وغیرہ میں لکھا ہے کہ اگر ایمان نہ لاؤ گے تو ہلاک ہو گے۔جناب من! ہم نے روایات صحیحہ اوپر درج کر دی ہیں ان پر نگاہ کریں اور پھر سوچیں کہ شیخ زادہ کیا چیز اور کس حیثیت کی اس کی روایت ہے؟ ایسی غیر مستند کتب پر اعتبار اور قرآن مجید، تفاسیر ، اناجیل اور تورات سے انحراف ؟ مع یہیں تفاوت راه از کجا است تا یکجا پٹیالوی صاحب کا یہ بیان متذکرہ صدر حوالجات کی موجودگی میں ہرگز شائستہ التفات نہیں لیکن تاہم میں ان سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ اگر شرط کا اظہار پیشگوئی کے ساتھ کر دیا گیا تھا تو پھر یونس کے ناراض ہو کر بھاگنے کی کیا وجہ تھی؟ اِذْ ذَهَبَ مُغَاضِباً۔نیز حضرت یونس کے باصرار یہ کہنے کا کیا مطلب تھا کہ لَا اَرجِعُ إِلَيْهِمْ كَذَاباً ؟ علاوہ ازیں قوم کے اس طرح بیقرار (367)