تفہیماتِ ربانیّہ — Page 366
ان کی توبہ سے عذاب ٹل گیا۔کوئی مسلمان یہ نہیں کہہ سکتا کہ حضرت یونس کی پیشگوئی (نعوذ باللہ ) غالی نکلی اور پوری نہ ہوئی۔اسی طرح حضرت اقدس کی پیش گوئی داماد واحمد بیگ وغیرہ ہے۔ہاں نفس پیش گوئی اور عذاب کے ٹل جانے کو تو امرتسری معاند مولوی ثناء اللہ نے بھی تسلیم کیا ہے۔ان کے اپنے الفاظ حسب ذیل ہیں :- " ہم مانتے ہیں کہ انذاری عذاب نہ صرف ملتوی ہو جاتا ہے بلکہ مرفوع بھی ہو جاتا ہے۔۔۔مرزا جی ہمیشہ حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کا حوالہ دیا کرتے تھے مگر افسوس کہ اس میں بھی تجدید سے نہیں رکھتے۔اس قصہ کا مضمون بالکل ہماری تائید اور مرزا جی کی تردید کرتا ہے۔چنانچہ ارشاد ہے فَلَوْلَا كَانَتْ قَرْيَةٌ امَنَتْ فَنَفَعَهَا إِيْمَانَهَا إِلَّا قَوْمَ يُونُسَ، لَمَّا امَنُوا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الخزي في الحيوةِ الدُّنْيَا وَمَتَّعْلَهُم إلى حِینٍ۔اس آیت میں صاف اور صریح مذکور ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام کی قوم سے عذاب ٹل گیا۔“ الہامات مرز ا صفحه ۱۴ حاشیه ) الغرض ہمارے بیانات سے ثابت ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو تحریر فرمایا ہے وہ عین قرآن مجید، تفاسیر و روایات، اناجیل اور یوناہ نبی کی کتاب کے مطابق ہے۔اس کو جھوٹ قرار دیکر معترض پٹیالوی نے اپنی کذب بیانیوں میں اضافہ کیا ہے وبس۔قولہ۔اسی طرح سے مرزا صاحب کا یہ کہنا کہ یونس علیہ السلام کی پیشگوئی میں کوئی شرط نہ تھی صاف جھوٹ اور صریح کذب ہے۔اول تو قطعی طور سے اس پیشگوئی کا ثبوت نہیں جیسا کہ اوپر ذکر ہوا۔پھر شرطی اور غیر شرطی کا کیا مذکور۔اوراگر بعض روایتوں سے پیشگوئی کا حال معلوم ہوتا ہے تو شرطیت ہونے کا ثبوت بھی وہیں سے ملتا ہے۔(بعد ازاں کتاب شیخ زادہ ا ھے دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے۔(ابو العطاء) سے پیشگوئی کا ثبوت اوپر ذکر ہو چکا ہے۔س، نکاح والی پیشگوئی کے شرطی ہونے کا بھی پہلے اشتہار سے لے کر ہر جگہ ثبوت موجود ہے۔(مؤلف) (366)