تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 368 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 368

اور ہلکان ہونے کی کیا وجہ تھی۔وہ سیدھے طور پر ایمان لے آتے۔کیونکہ پیشگوئی کے یہی الفاظ تھے کہ ایمان لاؤ گے تو بچ جاؤ گے۔ان کا اس طرح پریشان ہو جانا اس بات کی زبردست دلیل ہے کہ ان کے سامنے پیش گوئی بغیر شرط ذکر ہوئی تھی۔پھر مقام حیرت ہے کہ روایات بکثرت موجود ہوں مگر کسی معتبر روایت میں شرط کے ان الفاظ کا ذکر نہ ہو۔ان تمام امور پر غور کرنے سے ایک عقلمند یقینا اسی نتیجہ پر پہنچے گا کہ اگر چہ اس پیش گوئی میں بھی جملہ وعیدی پیش گوئیوں کی طرح شروط تو بہ ملحوظ تھی لیکن بظاہر لفظا یہ شرط مذکور نہ تھی ورنہ یہ حالات پیش نہ آتے۔اور اگر ایسی شرط پیشگوئی کے ساتھ ذکر ہوتی تو اس کا کوئی ذکر قرآن مجید، روایات صحیحہ اور بائیبل میں بھی ہوتا۔پس اس الزام میں بھی معترض پٹیالوی کی کذب بیانی ثابت ہے وھوالمراد۔حضرت یونس کی پیشگوئی اور نکاح والی پیشگوئی میں مشابہت اگر چہ مندرجہ بالا تحریرات کے بعد اس عنوان کی کوئی ضرورت نہیں تھی کیونکہ نفس تاخیر عذاب یا التواء مطلق میں دونوں پیشگوئیاں ہم پلہ ہیں اور بالکل مرا یا متقابلہ کی حیثیت رکھتی ہیں لیکن چونکہ معترض پٹیالوی نے یہ عنوان ذکر کیا ہے لہذا از بسکہ ہم اختصار چاہتے ہیں تھوڑا سا ذکر ضروری ہے۔معترض نے ان دونوں پیشگوئیوں کو غیر مماثل ثابت کرنے کے لئے مندرجہ ذیل چھ امور ذکر کئے ہیں جو مع جواب اس جگہ درج ہیں۔لکھتا ہے کہ :۔(۱) نکاح والی پیشگوئی قطعی اور یقینی ہے اور اس کی بناء متواتر الہامات پر رکھی گئی ہے۔برخلاف اس کے یونس علیہ السلام کی پیشگوئی کا ثبوت نہ کسی الہامی کتاب سے ملتا ہے نہ احادیث صحیح ہے۔اس کا ماخذ بعض ضعیف روایات ہیں۔“ (عشرہ صفحہ ۸۲) الجواب - مکمل ثبوت او پر ذکر ہو چکا ہے۔اعادہ کی ضرورت نہیں۔(۲) منکوحہ آسمانی کے واپس آنے کا الہام ان الفاظ میں تھا فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللهُ وَيَرُدُّهَا إِلَيْكَ إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ مَگر حضرت یونس کو اس طرح نہیں کہا گیا۔“ (عشره صفحه ۸۲) (368)