تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 342 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 342

نقشہ کھینچ کر آگے رکھ دیا اور حصر کے طور پر دعوی کر کے بتلادیا کہ فلاں فلاں امر کا اس وقت ظہور ہوگا۔لیکن امام مہدی کا نام تک بھی تو نہیں لیا۔پس اس سے سمجھا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنی صحیح اور کامل تحقیقات کی رُو سے ان حدیثوں کو صحیح نہیں سمجھا جو مسیح کے آنے کے ساتھ مہدی کا آنا لازم غیر منفک ٹھہرا رہی ہیں۔“ (ازالہ اوہام صفحہ ۲۱۵) ہر دو اقتباس واضح کر رہے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کس زور سے اس امر کو بیان کیا ہے کہ مہدی کے بارہ میں کوئی حدیث صحیح بخاری میں نہیں ہے۔اب اگر شہادۃ القرآن میں حضور نے بخاری کا حوالہ تحریر فرمایا ہے تو یقینا یہ ہو ہے۔اس کو جھوٹ قرار دینا محض ضد اور عناد کا نتیجہ ہے وبس۔الجواب الثاني - هَذَا خَلِيفَةُ اللَّهِ الْمَهْدِی کے حوالہ کے لئے بخاری کی بجائے ابو نعیم اور تلخیص المتشابہ ملاحظہ ہوں۔جہاں حضرت ابن عمرؓ سے یہ روایت مذکور ہے۔نواب صدیق حسن خان صاحب نے اپنی کتاب حج الکرامہ صفحہ ۳۶۶ پر بھی اس کو درج کیا ہے۔نیز علامہ سندی نے هَذَا خَلِيفَةُ اللهِ الْمَهْدِی والی روایت پر لکھا ہے :- كَذَا ذَكَرَهُ السُّيُوطِئ وَفِي الزَّوائِدِ هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحُ رِجَالُهُ ثِقَاتْ وَرَوَاهُ الْحَاكِمُ فِي الْمُسْتَدْرِي وَقَالَ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ۔“ ( حاشیہ ابن ماجه مطبوعه مصر جلد ۲ صفحه ۲۶۹) ترجمہ۔کہ سیوطی نے بھی اس روایت کو ذکر کیا ہے۔الزوائد میں ہے کہ اس کی سند صحیح اور راوی ثقہ ہیں۔پھر امام حاکم اپنی مستدرک میں اس روایت کو لائے ہیں اور کہا ہے کہ یہ حدیث بخاری اور مسلم کی شرط کے مطابق بھی صحیح ہے۔“ ناظرین خدا را غور فرمائیں کہ حدیث صحیح ہے۔متعدد کتب میں مذکور ہے بلکہ امام حاکم کی رائے کے مطابق تو علی شرط الصحیحین صحیح ہے۔اب اگر حضرت اقدس سے بجائے مستدرک، ابونعیم، تلخیص المتشابہ، حج الکرامہ، اور دوسری کتب کے بخاری کا لفظ لکھا گیا تو کیا یہ جھوٹ ہے دھوکہ ہے؟ ہرگز نہیں۔بلکہ یہ تو محض سبقت قلم ہے جسے جھوٹ سے تعبیر کرنا سخت غلطی ہے۔اگر محض حوالہ کی (342)