تفہیماتِ ربانیّہ — Page 341
اب معترض پٹیالوی تو اس پر بھی واویلا مچادے گا کہ نعوذ باللہ ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بیان ”نہ میں بھولا ہوں نہ نماز کم ہوئی ہے“ میں ”بالکل جھوٹ“ کہا ہے (العیاذ باللہ من هذا) لیکن ہم ایسے شخص کو بتا ئیں گے کہ یہ کذب نہیں یہ محض سہو ہے۔اگر اللہ تعالیٰ انبیاء کرام کو حالات بشریہ سے بالکل بالا کر دیتا تو دنیا میں ان کی الوہیت کا سکہ جم جاتا۔اسلئے ایسے معمولی سہو میں کوئی حرج نہیں۔اس نسیان یا ز ہول وقتی کو کذب بیانی سے تعبیر کرنا حماقت اور نادانی ہے۔زیر بحث حوالہ کا بھی یہی حال ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ( جو قریباً اسی کتب کے مصنف ہیں ) کے سہو کی وجہ سے سبقت قلم کے رنگ میں بخاری کا نام لکھا گیا۔جس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام قبل ازیں ازالہ اوہام میں بالتصریح لکھ چکے ہیں کہ بخاری میں مہدی کے متعلق کوئی حدیث موجود نہیں۔چنانچہ تحریر فرماتے ہیں :- (1) ”میں کہتا ہوں کہ مہدی کی خبریں ضعف سے خالی نہیں۔اسی وجہ سے امامین حدیث نے ان کو نہیں لیا۔اور ابن ماجہ اور مستدرک کی حدیث ابھی معلوم ہو چکی ہے کہ عیسیٰ ہی مہدی ہے۔لیکن ممکن ہے کہ ہم اس طرح پر تطبیق دیں کہ جو شخص عیسی کے نام سے آنے والا احادیث میں لکھا گیا ہے اپنے وقت کا وہی مہدی اور وہی امام ہے اور ممکن ہے کہ اس کے بعد کوئی اور مہدی بھی آوے۔اور یہی مذہب حضرت اسمعیل بخاری کا بھی ہے کیونکہ اگر ان کا بجز اس کے کوئی اور اعتقاد ہوتا تو ضرور وہ اپنی حدیث میں ظاہر فرماتے۔لیکن وہ صرف اسی قدر کہہ کر چپ کر گئے کہ ابن مریم تم میں اترے گا جو تمہارا امام ہوگا اور تم میں سے ہی ہوگا۔اب ظاہر ہے کہ امام وقت ایک ہی ہو ا کرتا ہے۔(ازالہ اوہام صفحہ ۲۳۵ طبع سوم ) (۲) اگر مہدی کا آنا صیح ابن مریم کے زمانہ کے لئے ایک لازم غیر منفک ہوتا اور سچ کے سلسلہ ظہور میں داخل ہوتا تو وہ بزرگ شیخ اور امام حدیث کے یعنی حضرت محمد اسمعیل ر صاحب صحیح بخاری اور حضرت امام مسلم صاحب صحیح مسلم اپنی صحیحوں سے اس واقعہ کو خارج نہ رکھتے۔لیکن جس حالت میں انہوں نے اس زمانہ کا تمام ے یہی مضمون حمامة البشرکی صفحہ ۴۴ پر بھی درج ہے۔(مؤلف) (341)